تحریک انصاف کا مسئلہ

Image caption خیبر پختون خوا میں تحریکِ انصاف کے حامیوں نے بے مثال جوش و جذبے سے انتخابی مہم چلائی تھی

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کی حکومت کوبنے ہوئے صرف چند ماہ ہوئے ہیں لیکن اس عرصے میں اس کے تین منتخب نمائندے اُس جنگ کی نذرہو چکے ہیں جسے انہوں نے کبھی بھی اپنی جنگ نہیں کہا اور یہی آج اس کی پریشانی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

بدھ کو یعنی عید کے روز ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں صوبائی وزیرقانون اسرارگنڈاپور پر حملے کے بعد جمعرات کی رات پشاورمیں ہونے والی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں شریک اراکین برہم تھے کہ آخر وفاقی حکومت کل جماعتی کانفرنس میں ملک کی سیاسی جماعتوں اورعسکری قیادت سے پورا اختیارلینے کے بعد بھی مذاکرات کے عمل کوتیز کیوں نہیں کرتی؟

ان میں سے بعض اس مخمصے کا شکار ہونے کے علاوہ پریشان بھی تھے کہ انہیں کون نشانہ بنا رہا ہے اور کیوں نشانہ بنا رہا ہے۔ اسی اجلاس میں اس بات کا ایک بارپھراعادہ کیا گیا کہ حکومت تحریک انصاف کے رہنماوں پر بیرونی ایما پرحملہ کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات کرے اورایسا نہ ہو پائے تو ان کو سختی سے کچلے۔

انتخابات سے کچھ عرصہ قبل جن لوگوں نے دہشت گردی کے حملوں سے جان بچانے کی خاطر اے این پی اور پیپلزپارٹی کو چھوڑا تھا اور کچھ مذہبی جماعتوں اورتحریکِ انصاف میں شمولیت اختیارکی تھی، انھیں بھی سمجھ آ چکی ہے کہ معاملہ اتنا آسان بھی نہیں جتنا انہوں نے سمجھ رکھا تھا۔

تحریکِ انصاف کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس خطے میں لڑی جانے والی جنگ کی مخالف ہے۔ وہ کچھ سماجی فلاحی پروگراموں کے ذریعے تعلیم اورصحت جیسے اداروں میں لوگوں کوریلیف دے کرثابت کرنا چاہتی تھی کہ وہ تبدیلی لاچکی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ وہ توطالبان کے خلاف ڈرون حملوں اور کاروائیوں کی مخالفت کررہی ہے تو اسے کبھی بھی نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

لیکن اب وہ نہ صرف اپنی سیاسی قیادت پر ہونے والے حملوں بلکہ پشاوراور نوشہرہ میں سے گزرنے والی نیٹو کی سپلائی سے بھی پریشان ہے۔ اس کے بارے میں ان کے وعدے لوگوں کواب بھی یاد ہیں کہ وہ حکومت میں آ کر اسے بند کردیں گے۔ یہ وعدے ابھی تک وفا نہیں ہو سکے، اور یہ سپلائی آج بھی وزیرِ اعلیٰ کے نوشہرہ میں آبائی حلقے اور پشاورسے ہو کرگزرتی ہے۔

نیٹو کی یہ سپلائی شریکِ اقتدار جماعت اسلامی کے گلے کی بھی ہڈی بن چکی ہے۔

تحریک انصاف یقیناً دہشت گردی کی صورت میں پڑنے والی اس نئی افتاد کے لیے تیارنہیں تھی، دوسری جانب صوبے کی سابق حزب اقتدار جماعت اے این پی اور تحریکِ انصاف کے ہاتھوں مختلف سیاسی اورانتخابی معرکوں میں زک اٹھانے والی مولانا فضل الرحمن کی جمعیتِ علمائے اسلام نے اسے جیسے آڑے ہاتھوں لیا ہے، اس نے بھی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

اس جنگ کی حمایت کرنے کے بعد اے این پی کو اکیلے جس بری طرح نشانہ بنایا گیا تحریکِ انصاف اس کے انجام سے بھی خائف ہے اور وہ کھل کر کسی کانام بھی اسی وجہ سے نہیں لے رہی۔

اس کے مخالف جماعتوں کی نظروں میں ’ممی ڈیڈی‘ کلاس کی تحریک انصاف تو ان حالات کے لیے تیارہی نہیں تھی اوربہت جلد ہی خود حکومت چھوڑنے پرمجبورہوجائے گی۔

اس پرتنقید کرنے والی جماعت جمعیت علما اسلام اوراے این پی کواپنے ادوارمیں اپوزیشن کے نام پراتنی سخت تنقید برداشت نہیں کرنی پڑی تھی جتنا تحریک انصاف کو اس کا سامنا ہے۔

Image caption نیٹو کی سپلائی لائن بھی تحریکِ انصاف کے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے

تحریکِ انصاف کی کوشروع دن سے حکومت چلانے کے لیے وہ ماحول دستیاب نہیں ہو سکا جس کی وہ تیاری اور توقع کر رہی تھی۔ غیرمتوقع دہشت گردی نے اس کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اس کی اتحادی جماعتیں خصوصا جماعت اسلامی اور آفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی بھی اس کے ساتھ فرنٹ لائن جماعتوں کا کردار ادا نہیں کر رہیں۔

اس وقت وہی حالت بنتی جارہی ہے جو اے این پی اورپیپلز پارٹی کے اتحاد کے وقت تھی کہ حکومت تودونوں چلا رہی تھیں لیکن نشانے پرصرف اے این پی تھی جس نے اس جنگ کو یک تنہا گود لیا تھا اور بعد میں اس کو لڑتے ہوئے اس طرح تنہا رہ گئی جیسا حکومت کے کہنے پرمختلف علاقوں میں لوگوں کے اپنے بنائے ہوئےامن لشکر تنہا رہ گئے تھے کہ دہشت گردوں نے ان کے جنازوں میں بھی حملے کرکے سینکڑوں لوگ ماردیے تھے لیکن حکومت اور اس کے ادارے ان کی جان بچانے بھی نہیں آئے۔

لیکن معاملہ صرف سیاسی نہیں بلکہ تحریکِ انصاف کوابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔ وہ نہ ہی تو اب تک دہشت گردی سے نمٹنے کا کوئی بڑا منصوبہ متعارف کرا سکی ہے اور نہ ہی یہ پیغام دے سکی ہے کہ وہ اتنے ماہ گزرنے کے بعد سمجھ پائی ہے کہ دستیاب وسائل کوٹھیک طرح سے استعمال کرنے کےساتھ ساتھ عام ووٹرکی اس حمایت کو بھی اپنے ان مقاصد کے لیے کام میں لاسکے جواس کے لیے بڑے بڑے بتوں سے بھڑگئے تھے۔

اب حکومت بننے کے بعد اصل زندگی کی تیز روشنی میں ان ’متوالوں‘ کا خمار آہستہ آہستہ اتر رہا ہے، اور انھیں معلوم ہوتا جا رہا ہے کہ نظریاتی بحثیں اور ہوتی ہیں اور عملی زندگی کچھ اور۔