’بلوچ مار سے نہیں پیار سے ڈرتا ہے‘

Image caption صوبائی حکومت زلزلے کے فوراً بعد سےغیر ملکی امداد اور طبی و غیر طبی ماہرین کے لیے چیخ رہی ہے

جب آٹھ اکتوبر 2005 کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور خیبر پختونخوا میں تباہ کن زلزلہ آیا تو شروع کے 24گھنٹوں میں مشرف حکومت کا یہی خود دارانہ رویہ تھا کہ نہ کسی بین الاقوامی ادارے کی ضرورت ہے اور نہ ہی غیر ملکی امداد کی، حکومت میں اتنا زورِ بازو ہے کہ خود اس آفت سے نمٹ لے گی۔

لیکن جیسے جیسے تباہی کی خبر قالین کی طرح کھلتی چلی گئی ویسے ویسے حکومت کے پیروں تلے سے زمین نکلتی چلی گئی اور قدرتی آفت سے نمٹنے کی قومی اہلیت کھل کھلا کے سامنے آ گئی۔

نوبت یہ تھی کہ پاکستان کی جدید راج دھانی میں کسی کو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ مظفر آباد اور بالا کوٹ تو دور کی بات خود مارگلہ ٹاورز کے ملبے تلے دبے لوگوں کو کیسے نکالنا ہے۔

عام لوگ ہاتھوں سے ملبہ اٹھا رہے تھے اور پولیس نظم و ضبط پر مامور تھی۔ اس بابت کس ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس ادارے کو کن دیگر ہنگامی اداروں سے رابطہ کرنا ہے، کون سے آلات کس کے پاس ہیں، انہیں استعمال کی فوری اجازت کس سے مل سکتی ہے، کون کون سے ماہرین جلد از جلد دستیاب ہو سکتے ہیں۔ کسی کو کچھ نہیں معلوم تھا، کسی کو آدھا معلوم تھا اور کسی نے فرض کر لیا تھا کہ اینج کرلو تے اینج ہو جائے گا۔

آخرِکار 48گھنٹے بعد پہلی برطانوی ریسکیو ٹیم اتری اور اس نے تربیت یافتہ کتوں اور آلات کے ساتھ مارگلہ ٹاورز میں امدادی کارروائی شروع کر دی۔

جہاں تک مظفر آباد کا معاملہ تھا تو شروع شروع میں فوج اور انٹیلی جینس ایجنسیاں غیرملکی ماہرین اور این جی اوز کو لائن آف کنٹرول سے متّصل اس حساس علاقے میں داخلے کی اجازت دینے سے ہچکچا رہی تھیں۔ لیکن تباہی کا دباؤ اس قدر تھا کہ بالآخر کشمیر بھی کھولنا پڑا اور کوہالہ کے پل پر لگے اس بورڈ نے بھی منہ پرے کر لیا کہ اس پوائنٹ سے آگے غیرملکی باشندے بلا اجازت نہیں جا سکتے۔ پھر تو سوائے اسرائیل اور انڈیا کے ہر ملک کے ماہرین اور این جی اوز کے لیے دروازہ وا ہو گیا اور اسلام آباد ایئرپورٹ پر امدادی طیاروں کے اترنے کی جگہ نہ رہی۔

آج 2005 کو آٹھ سال ہو چکے۔ان آٹھ برسوں میں کم ازکم اتنا تو ہو ہی جانا چاہیے تھا کہ قدرتی آفات کے بعد کے حالات سے نمٹنے کی محدود سی صلاحیت ہی پروان چڑھ جاتی۔ لیکن بلوچستان کے دو اضلاع آواران اور کیچ میں 24 اور 28 ستمبر کو ساڑھے سات شدت کے دو زلزلے آنے کے سبب پانچ سو سے زائد افراد کی ہلاکت اور 40 ہزار کے لگ بھگ خاندانوں کی بے گھری 2005 کی تباہی کا محض پانچ فیصد ہونے کے باوجود قابو میں نہیں آ رہی۔

صوبائی حکومت زلزلے کے فوراً بعد سےغیر ملکی امداد اور طبی و غیر طبی ماہرین کے لیے چیخ رہی ہے۔ لیکن وفاقی حکومت اقوامِ متحدہ کے امدادی اداروں تک کو رسائی دینے میں ناکام ہے۔ اس عرصے میں بلوچستان کی روایتی محرومیوں پر مسلسل آبدیدہ وزیرِاعظم ایک ماہ میں دوسری دفعہ امریکہ روانہ ہو گئے مگر آواران یا کیچ میں ان کا ہیلی کاپٹر ایک بار بھی نہیں اترا۔

متاثرہ علاقے سے محض چھ گھنٹےکی مسافت پر پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں عید کے تین دنوں میں آٹھ لاکھ سے زائد جانور کٹ کٹا گئے۔ لیکن بے گھر زلزلہ زدگان اپنے ہی ہونٹ کاٹتے رہے۔ میڈیا گائیوں بیلوں بکروں کی کیٹ واک دکھانے میں اتنا مست رہا کہ بان کی جوتیاں چٹخاتے آوارانیوں کی ڈیزاسٹر واک اس کے دھیان میں ہی نہیں آئی۔

اگر زلزلے کے بعد مصیبت زدگان کی زبان اور حسّاسیت سمجھنے والے سرکاری سویلینز اور غیر جانبدار ملکی وغیرملکی این جی اوز امدادی کام میں آگے آگے رکھے جاتے تو ہزاروں متاثرین بلا خوف و خطر امداد بھی قبول کر لیتے اور اب تک وہاں ریلیف کے اگلے مرحلے یعنی تعمیراتی کام کی بنا بھی پڑ چکی ہوتی۔

لیکن فوج اور ایف سی ضروری امدادی سکیورٹی فراہم کرنے سے زیادہ اس پر بضد رہے کہ امداد ان کے ذریعے ہی تقسیم ہوگی۔ نتیجہ یہ ہے کہ فوج اور ایف سی کو ہر مقامی زلزلہ زدہ علیحدگی پسندوں کا حامی اور معلومات کا مشکوک خزانہ نظر آ رہا ہے اور مقامی متاثرین کو ہر وردی والے یا سادے پر گمان ہو رہا ہے کہ

لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تیری ہم تیری دوستی سے ڈرتے ہیں

Image caption فوج اور ایف سی کو ہر مقامی زلزلہ زدہ علیحدگی پسندوں کا حامی اور معلومات کا مشکوک خزانہ نظر آ رہا ہے

ایک مدت سے آواران کا علاقہ علیحدگی پسندوں کا گڑھ ہے اور اس پر دوبارہ ریاستی عمل داری کی کوششیں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکیں۔ چنانچہ اب جنرل زلزلہ کی قیادت میں اس علاقے کو علیحدگی پسندوں سے پاک کرنے کا سنہری موقع کوئی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ ویسے بھی زلزلے روز روز تھوڑا ہی آتے ہیں۔ چنانچہ متاثرین امدادی تھیلوں اور ڈنڈوں، پانی کی بوتلوں اور دو طرفہ گولیوں سے بال بال بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جانے یہ سوچ کیسے بدلے گی کہ ’ہمیں لوگ نہیں زمین چاہیے‘۔ کوئی تو بتائے کہ جب لوگ قریب آتے ہیں تو زمین بھی خود بخود سرکتی چلی آتی ہے۔ بصورتِ دیگر زمین لوگوں سمیت کھسک لیتی ہے۔

تو کیا آواران کا نام مارگلہ، مظفر آباد یا بالا کوٹ رکھ دینے سے کچھ بات بن جائے گی؟

اسی بارے میں