وزیرِاعظم نواز شریف امریکہ کے چار روزہ دورے پر روانہ

Image caption وزیرِاعظم نواز شریف اتوار کو امریکی وزیرِخارجہ جان کیری سے ملاقات کریں گے

پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف سنیچر کے روز امریکہ کے چار روزہ دورے کے لیے روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ امریکی صدر سمیت، اقتصادی امور کے سلسلے میں اہم اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔

سنیچر کو روانگی سے قبل وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کسی بھی ملک کی خود مختاری کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس دورے میں افغانستان سمیت دیگر علاقائی امور پر بھی بات چیت کریں گے۔

وزیرِاعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ اِس دورے میں امریکی حکام کے ساتھ دوطرفہ تعاون کے ہر شعبے خصوصاً تجارت اور سرمایہ کاری پر بات چیت کی جائے گی۔

وزیرِاعظم نواز شریف اتوار کو امریکی وزیرِخارجہ جان کیری سے ملاقات کریں گے اور بدھ کو اُن کی ملاقات امریکی صدر براک اوباما سے ہوگی۔

اُن کی آمد سے قبل امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات گہرے کرنے کا موقع دے گا کیونکہ گذشتہ ایک سال کے دوران، دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں میں خاطرخواہ کمی ہوئی ہے۔

امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کئی برسوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں تاہم کئی مواقع پر دونوں کے درمیان عدم اعتماد منظرِ عام پر آیا ہے۔

پاکستان کا موقف رہا ہے کہ امریکہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنے قبائلی علاقوں میں موجود دہشتگردی کے ان ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا جو افغانستان میں نیٹو افواج کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

گذشتہ ماہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور امریکہ یہ حملے بند کرے تاکہ مزید شہریوں کی ہلاکت نہ ہو۔

Image caption وزیراعظم پاکستان نے کہا تھا کہ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے معاملے میں پاکستان سے امتیازی سلوک ختم کیا جانا چاہیے

پاکستان میں جاری دہشت گردی کے بارے میں انہوں نے کہا ’میں نے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں کُل جماعتی کانفرنس بھی ہوئی۔ اس کانفرنس میں متفقہ طور پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن مذاکرات کو کمزوری یا خوش کرنے کا طریقہ نہ سمجھا جائے۔‘

اسی دورے کے دوران نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا تھا کہ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے معاملے میں پاکستان سے امتیازی سلوک ختم کیا جانا چاہیے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس سول جوہری توانائی کے لیے مہارت، افرادی قوت اور بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اور ہم اس سلسلے میں عالمی تعاون چاہتے ہیں۔‘

میاں نواز شریف نے اس سے قبل بطور وزیرِاعظم اپنے گذشتہ دورِ حکومت میں امریکی صدر بل کلنٹن سے ملاقات بھی کی تھی جس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کارگل کا تنازع جاری تھا۔

اسی بارے میں