’فوج بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقے میں صرف امدادی کام کر رہی ہے‘

Image caption زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں میں چھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں: آئی ایس پی آر

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مبینہ فوجی آپریشن کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی ہے جبکہ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز متاثرہ علاقوں میں صرف امدادی سرگرمیوں میں ہی حصہ لے رہی ہیں۔

مبینہ آپریشن کے خلاف ہڑتال کی کال سخت گیر موقف رکھنے والی چند بلوچ قوم پرست جماعتوں نے دی تھی۔

کوئٹہ میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق بلوچ نیشنل فرنٹ اور بلوچ نیشنل موومنٹ کی اس کال پر اتوار کو مستونگ، قلات ، خضدار، حب، تربت، مند، پسنی، پنجگور اور خاران سمیت متعدد علاقوں میں بازار مکمل طور پر بند رہے اور کاروبارِ زندگی معطل رہا۔

ان تنظیموں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر الزام عائد کیا ہے کہ مشکے اور آواران میں آپریشن کیا جا رہا ہے جس کے باعث لوگ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

ادھر اتوار کو ہی پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز صرف امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر ان علاقوں میں کئی حملے کیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود سکیورٹی فورسز امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں میں چھ اہلکار ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود سکیورٹی فورسز نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ شرپسند عناصر کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان کے علاقے مشکے اور آواران میں گزشتہ ماہ آنے والے زلزلے سے 400 سے زیادہ افراد ہلاک اور تین لاکھ متاثر ہوئے تھے۔

اسی بارے میں