پاکستان کو سکیورٹی کی مد میں دی جانے والی امداد بحال کی جائے: اوباما

Image caption وزیرِاعظم میاں نواز شریف امریکہ کے صدر اور نائب صدر سمیت اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے

امریکی صدر براک اوباما نے کانگریس سے کہا ہے کہ پاکستان کو سکیورٹی کی مد میں دی جانے والی تیس کروڑ ڈالرز کی امداد بحال کی جائے۔

پاکستان کو ملنے والی یہ امداد مئی 2011ء میں اس وقت معطل کر دی گئی تھی جب امریکی فوجیوں کے پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں آپریشن کے دوران اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات سردمہری کا شکار ہو گئے تھے۔

ایک سرد باب کے بعد نواز اوباما ملاقات

’ڈرون حملے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں‘

اگرچہ پاکستان کی امداد کی بحالی پر گذشتہ چند ماہ سے غور جاری تھا، اس کا باضابطہ اعلان اس وقت کیا گیا جب امریکی صدر براک اوباما رواں ہفتے میں پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف سے ملاقات کر رہے ہیں۔

نواز شریف وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ کے دورے پر اتوار کو واشنگٹن پہنچے ہیں اور وہ آئندہ تین روز میں امریکی صدر اور نائب صدر سمیت اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ کی نائب ترجمان میری ہارف نے پاکستانی امداد کی بحالی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سکیورٹی معاملات میں تعاون کی بحالی کے عمل کا حصہ ہے جو کہ 2011 اور 2012 میں دو طرفہ چیلنجوں کی وجہ سے سست روی کا شکار ہو گیا تھا۔‘

میری ہارف نے کہا کہ اس عرصے کے دوران پاکستان کو سکیورٹی کی مد میں دی جانے والی امداد تو معطل رہی لیکن 85 کروڑ ڈالر کی سویلین امداد دی جاتی رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ سالانہ امدادی عمل کے تحت اس موسمِ گرما میں محکمۂ خارجہ نے کانگریس کو مطلع کیا ہے کہ وہ پاکستان کو دی جانے والی مختلف قسم کی امداد کس طرح سے فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

میری ہارف نے کہا کہ ’امریکہ کی جانب سے سکیورٹی کی مد میں دی جانے والی امداد پاکستانی افواج کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی جو پاکستان کے مغربی سرحدی علاقوں میں جاری تشدد کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘

اتوار کو امریکہ پہنچنے کے بعد نواز شریف عشائیے پر امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری سے ملے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے باقاعدہ ملاقات سے قبل میڈیا کے روبرو مختصر بات چیت میں کہا کہ ’ہمارے پاس بات چیت کے لیے بہت کچھ ہے اور موجودہ صورتِ حال میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات انتہائی اہم ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی جمہوریت اپنی معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے محنت کر رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ اسے ملک میں جاری شدت پسندی سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے‘۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے انسدادِ دہشت گردی، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی اور اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ محفوظ اور مستحکم پاکستان دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

امریکہ جاتے ہوئے لندن میں مختصر قیام کے دوران وزیرِ اعظم نواز شریف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کا ڈرون حملوں کے بارے میں موقف بالکل واضح ہے اور ہماری پالیسی میں کوئی دوغلا پن نہیں ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کو روانگی سے قبل وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کسی بھی ملک کی خود مختاری کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس دورے میں افغانستان سمیت دیگر علاقائی امور پر بھی بات چیت کریں گے۔

پاکستانی وزیرِ اعظم کی آمد سے قبل امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات گہرے کرنے کا موقع دے گا کیونکہ گذشتہ ایک سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں میں خاطرخواہ کمی ہوئی ہے۔

امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کئی برسوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں تاہم کئی مواقع پر دونوں کے درمیان عدم اعتماد منظرِ عام پر آیا ہے۔

پاکستان کا موقف رہا ہے کہ امریکی ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں، جب کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنے قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گردی کے ان ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا جو افغانستان میں نیٹو افواج کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

گذشتہ ماہ وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور امریکہ یہ حملے بند کرے تاکہ مزید شہریوں کی ہلاکت نہ ہو۔

اسی بارے میں