اسلام آباد: صدرِ پاکستان نے تحفظِ پاکستان آرڈیننس جاری کر دیا

Image caption بیان کے مطابق مخصوص جرائم کی پیشہ ورانہ تحقیقات کے لیے الگ تھانے قائم کیے جائیں گے

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے ایک آرڈیننس پر دستخط کیے ہیں جسے تحفظِ پاکستان آرڈیننس کا نام دیا گیا ہے اور اس کے تحت اُن تمام لوگوں کو ریاستی دشمن قرار دیا گیا ہے جو کسی بھی شکل میں معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔

اتوار کو ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں تحفظِ پاکستان آرڈیننس کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان اور اُس کے عوام، سنہ انیس سو اناسی سے اپنی ہمسائیگی سے رِسنے والی، غیر اعلانیہ جنگوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

انسدادِ دہشتگردی کے لیے نئی پانچ نکاتی پالیسی

’ تشدد میں اضافہ ہوا اور بات چیت پٹڑی سے اتر گئی‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’دو ہزار ایک سے شروع ہونے والی دوسری خونریز مہم میں، پاکستان کے وجود کے مخالف عناصر نے بے ایمان مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ہر عمر اور مذہب کے چالیس ہزار لوگوں کی جانیں لیں اور اِس دوران ملکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا‘۔

بیان میں تحفظِ پاکستان آرڈیننس کے جو نکات جاری کیے گئے ہیں، اُن میں کہیں، شدت پسندی، دہشتگردی، انتہاپسندی یا کالعدم تنظیموں جیسے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے بلکہ بظاہر، جرائم، مافیا اور گینگ جیسے الفاظ کے ذریعے، ہر طرح کے مذہبی، نظریاتی اور سماجی جرائم لوگوں کے ساتھ ایک جیسے سلوک کی یقین دہانی کی کوشش کی گئی ہے۔

آرڈیننس کے مطابق، قومیت، رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر، خوف و ہراس پھیلانے والوں کے ساتھ غیر ملکی دشمن کا سلوک کیا جائے گا۔

بیان کے مطابق مخصوص جرائم کی پیشہ ورانہ تحقیقات کے لیے الگ تھانے قائم کیے جائیں گے۔

’خاص وفاقی عدالتیں بنائی جائیں گی اور منظم جرائم میں ملوث افراد کے خلاف ملک کے دیگر شہروں میں مقدمات چلائے جائیں گے تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے اور ماحول، یرغمال نہ ہو۔ان کی جیلیں بھی الگ ہوں گی‘۔

تحفظِ پاکستان آرڈیننس میں افغان پناہ گزینوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’اپنے ملک میں بُرے حالات کے باعث، پاکستان آنے والے دسیوں لاکھ غیر پاکستانی، خاص طور پر جو سنہ اُنیس سو اناسی کے بعد آئے، اُنہیں عارضی آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ حملے کرنے لگیں‘۔

ایوانِ صدر کے بیان کے مطابق، تحفظِ پاکستان آرڈیننس، جن جرائم کے تدارک کے لیے جاری کیا گیا ہے، وہ پہلے سے، آئین کے آرٹیکل سات، پاکستان پینل کوڈ، آرمز ایکٹ اور فارنرز ایکٹ میں موجود ہیں البتہ اِن جرائم کی پاداش میں کم سے کم سزا دس سال کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں