انسدادِ دہشت گردی کے قانون پر خدشات

پاکستانی حکومت نے گذشتہ دنوں انسدادِ دہشت گردی کے نئے قوانین متعارف کروائے مگر ان قوانین پر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات اور خدشات کے اظہار کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس نئے قانون سے صوبوں میں امن کی بحالی اور ریاست کی رٹ بحال کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے انتظامی اور عدالتی معاملات پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔

اس قانون کے تحت تحفظِ پاکستان آرڈیننس میں وفاقی عدالتیں، مجسٹریٹ، تھانے اور پراسیکیوٹر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مگر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے سے موجود انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی موجودگی میں نئی عدالتوں کا قیام غیر ضروری ہے۔

کراچی میں فرانسیسی انجینیئروں کی بس پر حملے اور امریکی قونصلیٹ بم دھماکے کے مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل ایڈووکیٹ محمد فاروق کا کہنا ہے کہ وفاقی عدالتوں کے بجائے انسداد دہشت گردی کی عدالتیں بڑھانے کی ضرورت تھی۔

’انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سات روز کے اندر سماعت مکمل کر کے فیصلہ سنانا ہے لیکن مقدمات کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے عدالتیں سات روز میں مقدمات نمٹا نہیں سکتیں‘۔

محمد فاروق کے مطابق یہ تفتیشی افسر پر منحصر ہے کہ وہ اس طرح تحقیقات کرے کہ ملزم کو راہِ نجات نہ ملے، اس میں عدالتوں کا عمل دخل نہیں، بلکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والےاداروں کا ہوتا ہے۔

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل خالد جاوید خان کا کہنا ہے کہ انہیں آرڈیننس کی کاپی موصول نہیں ہوئی، تاہم اخبارات میں آیا ہے کہ وفاقی عدالتیں قائم کی جائیں گی حالانکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت خصوصی عدالتیں تو پہلے ہی قائم ہیں، جو وفاقی عدالتوں کے باوجود برقرار رہیں گی۔

’اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت جو عدالتیں بنا رہی ہے وہ کس طرح کے مقدمات کی سماعت کرسکتی ہیں۔ ان عدالتوں کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کو شیخ لیاقت کیس میں جو سپریم کورٹ نے اصول طے کیے ہیں انہیں ذہن میں رکھنا ہوگا‘۔

پاکستان کے آئین کے مطابق قیام امن صوبائی معاملہ ہے اور آئین میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد کئی محکمے صوبوں کے حوالے کیے گئے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ خالد جاوید خان کا کہنا ہے کہ دیوانی معاملات واحد معاملہ ہے جس پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں دونوں ہی قانون سازی کرسکتی ہیں۔

تحفظ پاکستان آرڈیننس کا اجرا بھی ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے۔ کراچی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں قانون سازی اور ترامیم کے لیے کمیٹیاں بنائی گئی تھیں۔ ایک کمیٹی میں متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر اور سابق ایڈووکیٹ جنرل فروغ نسیم بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس آرڈیننس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

سینیٹر فروغ نسیم کے مطابق اجلاسوں میں رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا تھا کہ وہ خود کوئی تھانہ بنانا چاہتے ہیں اور نہ ہی مقدمے کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ معاونت ہو۔

تحفظ پاکستان آرڈیننس کے مطابق پولیس یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کوئی افسر کسی بھی ایسے شخص کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کرسکتا ہے جو سنگین جرائم میں ملوث ہو، جس کے بارے میں یہ مصدقہ معلومات ہو کہ اس نے جرم کیا ہے یا جرم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کسی مشتبہ مجرم یا شخص کو 90 روز تک بغیر وارنٹ یا ایف آئی آر کے حراست میں رکھا جاسکتا ہے اور اس میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل خالد جاوید خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس نکتے پر اعتراض کیا تھا۔

’ہمارا موقف تھا کہ صوبائی حکومت کے پاس یہ اختیار ہونا چاہیے نہ کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے پاس کہ کس مجرم کو 90 روز تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ وفاقی قانون ہے، اس لیے وفاقی حکومت نے اپنے اختیارت کا استعمال کیا ہے‘۔

تحفظ پاکستان آرڈیننس کے تحت رینجرز اور ایف سی کو بااختیار کیا گیا ہے، جو اس وقت کراچی اور بلوچستان میں ریاست کی رٹ بحال کرنے کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں جبری گمشدگیوں کے بارے میں بھی کئی مقدمات زیر سماعت ہیں، جن میں کچھ بلوچستان کے سیاسی کارکنوں کے بارے میں بھی ہیں۔ ان تمام مقدمات میں درخواست گذاروں کا موقف ہے کہ ان کے رشتے دار خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں، جبکہ یہ ادارے اس سے مسلسل لاعلمی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب کالعدم جئے سندھ متحدہ محاذ نامی تنظیم نے اس آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیا ہے اور اس کے خلاف 30 اکتوبر کو سندھ میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ جئے سندھ متحدہ محاذ سندھ کی علیٰحدگی پر یقین رکھتی ہے اور اس کے کئی درجن کارکن لاپتہ ہوچکے ہیں۔

تنظیم نے انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قانون کا نوٹس لیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں یہ قانون مظلوم قوموں کے لیے جدوجہد کرنے والی جماعتوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔

اسی بارے میں