خیبر پختونخوا میں نصابی مواد پر پھر سے تنازع

Image caption محکمۂ تعلیم میں ایک اجلاس میں بعض مضامین حذف کرنے کا یہ فیصلہ کیا گیا تھا:سردار حسین بابک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں درسی کتب کے نصاب میں ’رد وبدل‘ کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر تنازع پیدا ہوگیا ہے۔

صوبے میں سابق حکمراں جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت درسی کتب سے باچا خان اور غنی خان کے مضمون حذف کر رہی ہے جبکہ وزیر تعلیم کہتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔

خیبر پختونخوا جہادی مواد دوبارہ شامل کرنے کا فیصلہ

سابق وزیر تعلیم اور عوامی نیشنل پارٹی کےپارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک ان دنوں درسی کتب سے ان کی جماعت کے قائدین کے بارے میں مضامین حذف کرنے پر سخت بیانات جاری کر رہے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ محکمۂ تعلیم میں ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیاگیا تھا کہ درسی کتب میں بعض مضامین کو نصاب سے حذف کیا جائے۔ یہ فیصلہ حکومت میں شامل جماعت اسلامی کے کہنے پر کیا گیا تھا۔

جماعت ہفتم کی پشتو کی کتاب میں خدائی خدمت گار باچا خان اور ششم جماعت کی کتاب میں پشتو شاعر غنی خان کی زندگیوں پر مبنی مضامین نصاب کا حصہ ہیں۔

باچا خان اور غنی خان جیسی شخصیات کے بارے میں مضامین عوامی نیشنل پارٹی کے سابق دور میں متعارف کرائے گئے تھے۔

ان کتب میں دیگر مذہبی شخصیات جیسے کاکا صاحب، بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ فاطمہ جناح اور دیگر شخصیات کے بارے میں مضامین بھی شامل ہیں۔

سردار باب کے مطابق محکمۂ تعلیم میں منعقدہ اجلاس کی تفصیلات (منٹس) متعلقہ محکموں کو بھیج دی گئی ہیں اور اگلے سال سے اس پر عمل درآمد ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ درسی کتب کی اشاعت کا وقت ابھی نہیں ہے لیکن انھیں خدشہ ہے کہ جماعت اسلامی کے کہنے پر تحریک انصاف کی حکومت درسی کتب میں ردو بدل کر سکتی ہے۔

اس بارے میں صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔

Image caption باچا خان اور غنی خان جیسی شخصیات کے بارے میں مضامین عوامی نیشنل پارٹی کے سابق دور میں متعارف کرائے گئے تھے

انھوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کو تعلیم کے شعبے میں دیگر ترجیحات پر توجہ دینی ہے جو انتہائی ضروری ہیں۔

عاطف خان سے جب پوچھا کہ یہ معاملہ پھر ذرائع ابلاغ میں کیسے پہنچا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے اسے سیاسی مسئلہ بنایا جا رہا ہو حالانکہ حکومت کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ ان مضامین کو نصاب سے حذف کیا جائے۔

عاطف خان کے بقول اس وقت محکمۂ تعلیم میں دیگر بڑے مسئلے موجود ہیں جیسے کہ بارہ سو اساتذہ کی کمی ہے، بعض سکولوں میں بچے ہیں تو استاد نہیں اور کہیں استاد ہیں تو وہاں بچے پڑھنے کے لیے نہیں آ رہے۔

سردار حسین بابک سے جب پوچھا کہ وزیرِ تعلیم اس کی تردید کر رہے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا تو انھوں نے اسے خوش آئند تو قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ خواہش جماعت اسلامی کی ہے اور جماعت اسلامی کی کوشش ہے کہ یہ مضامین حذف کر لیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹ بک بورڈ کو متعلقہ اجلاس کی تفصیلات بھیجی گئی ہیں اب دیکھتے ہیں کہ حکومت کیا کرتی ہے۔

اسی بارے میں