ایک سرد باب کے بعد نواز اوباما ملاقات

Image caption وزیراعظم نواز شریف صدر اوباما سے ملیں گے تو امریکی ڈرون حملے، نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلا، پرویز مشرف کا مستقبل اور شکیل آفریدی جسیے معاملات زیرِ بحث آ سکتے ہیں

پاکستانی وزیرِ اعظم میاں نواز شریف بدھ کو امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کریں گے۔ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان یہ ملاقات پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک سرد باب کے بعد ہو گی۔

اس سے قبل میاں نواز شریف کی کسی امریکی صدر سے رسمی ملاقات ان کے گذشتہ دورِ حکومت میں ہوئی تھی۔

وزیرِاعظم نواز شریف امریکہ کے چار روزہ دورے پر روانہ

ڈرون حملے نہیں رکیں گے، سٹریٹیجک ڈائیلاگ بحال

سنہ 1999 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کارگل کا تنازع عروج پر تھا۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس بھارت اور پاکستان، ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ عالمی برادری کے متعدد رہنماؤں کو جوہری جنگ کا حقیقی خدشہ تھا۔

میاں نواز شریف آج بھی کہتے ہیں کہ کارگل کی کارروائی کرنے سے پہلے اس وقت کے سپہ سالارِ پرویز مشرف نے انھیں آگاہ نہیں کیا تھا تاہم پرویز مشرف کئی بار کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے نواز شریف کو اس بارے میں مطلع کیا تھا۔

کشمیر میں کارگل کی چوٹیوں پر لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب توپوں کی آوازیں بلند تھیں۔ روایتی طور پر اس علاقے میں پاکستانی اور بھارتی فوجی، موسمِ سرما میں اپنی چوکیاں چھوڑ کر پہاڑوں سے واپس آ جایا کرتے تھے۔ تاہم اس سال پاکستانی حمایت یافتہ کشمیری مجاہدین اور پاکستانی فوج کے چند اہلکاروں نے سردیوں میں بھارتی چوکیوں پر قبضہ کر لیا، جیسے ہی گرمیاں آئیں تو مئی اور جون تک بھرپور جنگ کا امکان خطرناک حد تک بڑھ گیا۔

یاد رہے کہ میاں نواز شریف کا یہ دوسرا دورِ حکومت تھا۔ اس سے پہلے خارجہ پالیسی کے حوالے سے ان کی سب سے بڑی کامیابی بھارتی وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ ’لاہور اعلامیہ‘ طے کرنا تھا۔

اس سارے پس منظر میں میاں نواز شریف امریکی صدر بل کلنٹن سے ملنے واشنگٹن گئے تھے۔

بل کلنٹن کے خصوصی مشیر بروس ریڈل لکھتے ہیں ’اس ملاقات میں امریکہ کا واضح موقف تھا کہ پاکستانی فوجی انخلا کریں اور بھارت صبر سے کام لے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ملاقات کے دوران پاکستانی وزیرِاعظم کے چہرے پر پریشانی نمایاں تھی‘۔

میاں نواز شریف کا ہوائی اڈے پر استقبال کسی امریکی اہلکار نے نہیں بلکہ امریکہ میں سعودی سفیر شہزادہ بندر بن سلطان نے کیا۔ اس کا بظاہر مقصد شاید نواز شریف پر بل کلنٹن سے ملاقات سے پہلے ایک اتحادی کا دباؤ ڈالنا تھا۔ بعد میں شہزادہ بندر نے بروس ریڈل کو فون کر کے بتایا کہ نواز شریف کشیدگی کی وجہ سے شدید تشویش میں ہیں اور انھیں اپنے اقتدار کے برقرار رہنے کے بارے میں بھی اتنے ہی سنجیدہ خدشات لاحق ہیں۔

بروس ریڈل نے یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے لیے اس موضوع پر لکھےاپنے مضمون میں یہاں تک کہا ’اس قدر حساس دورے پر نواز شریف اپنے گھر والوں کو بھی ساتھ لے کر آئے تھے جو اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ کیا وہ اپنے ملک واپس جا بھی پائیں گے یا نہیں‘۔

بروس ریڈل کے مطابق بل کلنٹن نے میاں نواز شریف کو امریکہ آنے کی دعوت نہیں دی تھی بلکہ یہ ان کی اپنی پیشکش تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ بل کلنٹن نے نواز شریف کو فون پر پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر آپ امریکہ آنا چاہتے ہیں تو پاکستان کو غیر مشروط انخلا کرنا ہوگا۔

میاں نواز شریف اور بل کلنٹن کی ملاقات وائٹ ہاؤس کی بجائے بلیئر ہاؤس نامی عمارت میں ہوئی۔

چار جولائی کو ہونے والی اس ملاقات میں بہت سے امریکی اہلکار پاکستان اور بھارت کی ممکنہ لڑائی سلجھا رہے تھے۔

کئی گھنٹوں کے مذاکرات میں بل کلنٹن اپنے موقف پر قائم رہے اور میاں نواز شریف فوجی بغاوت کی پیش گوئیاں کرتے رہے۔ انھیں معلوم تھا کہ غیر مشروط انخلا ان کی حکومت کو گرانے کے مترادف ہوگا۔

شاید میاں نواز شریف بھی نظریاتی طور پر پاکستانی کی غلطی جانتے تھے یا پھر پاکستان کی کمر دیوار سے لگی ہوئی تھی۔

پاکستانی فوج کے بارے میں خود وزیرِاعظم سے زیادہ معلومات فراہم کر کے صدر کلنٹن نے نواز شریف کو فوجیں واپس بلانے پر اس شرط پر منا ہی لیا کہ وہ کشمیر کے مسئلے کے حل میں ذاتی دلچسپی لیں گے۔

بدھ کو چودہ سال بعد وزیراعظم نواز شریف صدر اوباما سے ملیں گے تو امریکی ڈرون حملے، نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلا، پرویز مشرف کا مستقبل اور شکیل آفریدی جیسے معاملات زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔

اس مرتبہ پاکستانی فوج کے نئے سربراہ کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ امریکی حکومت اپنے داخلی مالی بحران، ایران اور شام میں اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ پاکستان ذرا باسی کہانی معلوم ہوتی ہے۔

اسی بارے میں