چین کے کہنے پر تین اسلامی تنظیمیں کالعدم

Image caption تینوں تنظیموں کے کچھ ارکان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے

حکومتِ پاکستان نے چین کی حکومت کے مطالبے پر تین شدت پسند اسلامی تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے جن پر چین کے صوبے سنکیانگ میں سرگرم ہونے کا الزام ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق ان تین غیر ملکی تنظیموں کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جن کے بارے میں خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کے ارکان چین کے مسلمانوں کی اکثریت والے صوبے سنکیانگ میں شدت پسندی کی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کے علاوہ وہاں کے لوگوں کو حکومت کے خلاف اُکسا رہے ہیں۔

ان تنظیموں میں ایسٹ ترکمانستان اسلامی موومنٹ (ای ٹی آئی ایم)، اسلامک موومنٹ آف اُزبکستان (آئی ایم یو) اور اسلامک جہاد یونین ( آئی جے یو) شامل ہیں۔

ان تنظیموں کے ارکان کی کارروائیوں سے متعلق چینی حکام نے بھی پاکستانی حکام کو آگاہ کیا تھا جب کہ یہ معاملہ دونوں ملکوں کی عسکری قیادت کے درمیان بھی زیر بحث رہا ہے۔

یاد رہے کہ ان تین غیر ملکی تنظیموں کو اس سال مارچ میں بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں ان تین تنظیموں کو اس فہرست سے نکال دیا گیا تھا چونکہ ان تنظیموں کی پاکستان میں کارروائیوں سے متعلق خفیہ اداروں کو معلومات نہیں ملی تھی اور نہ اس ان تنظیموں کے ارکان کے پاکستان میں خودکش حملوں میں ملوث ہونے کے بارے میں کوئی شواہد ملے تھے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے چین کے دورے کے دوران بھی اس معاملے کو اُٹھایا گیا تھا جس کے بعد ان تین غیر ملکی تنظیموں کو دوبارہ کالعدم گروپوں میں شامل کرلیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان تنظیموں کو القاعدہ کے بعد سب سے خطرناک تنظیموں میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

پاکستان میں پہلے ہی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں پچاس سے ساٹھ تنظیموں کے نام شامل ہیں۔

ان تین تنظیموں کے ناموں کے علاوہ جن دیگر تنظیموں کے ناموں کو حال ہی میں کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے اُن میں عبداللہ اعظم برگیڈ، 313 برگیڈ، اسلام مجاہدین کے علاوہ طارق گیدڑ گروپ شامل ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ چینی حکام نے پاکستان کو آگاہ کیا تھا کہ ان تنظیموں کے ارکان کے سنکیانگ میں اپنے ہم خیال لوگوں سے رابطے ہیں اور چینی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان تنظیموں کے ارکان چینی باشندوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

ان تنظیموں کے ارکان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے علاوہ سکردو اور پاکستان اور چین کے سرحدی علاقے کے قریب خفیہ ٹھکانوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیموں ای ٹی آئی ایم اور آئی ایم یو سے متعلق معلومات ترکمانستان اور ازبکستان کی حکومتوں سے بھی رابطہ کر کے حاصل کی گئی ہیں جن کے مطابق ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد اہم کارکن انتہائی مطلوب افراد کی فہرستوں میں شامل ہیں۔ ان میں دس خواتین بھی ہیں جن میں خواتین کو خودکش بمبار کی تربیت دینے والی خواتین بھی شامل ہیں۔

اسلامک جہاد یونین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس تنظیم میں چیچنیا کے علاوہ آزربائیجان اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے باشندے بھی شامل ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق ان میں سے ای ٹی آئی ایم کے عبدالرحمٰن یلدروف انتہائی مطلوب افراد کی سرفہرست میں پہلے نمبر پر ہیں جبکہ خواتین میں ثریااسرنوف سرفہرست ہیں، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ خواتین خودکش حملہ آور تیار کرنے کی ماہر سمجھی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق چونکہ ان تنظیموں کا تعلق القاعدہ سے بھی ہے تو اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ ان تنظیموں کے ارکان پاکستان یا افغانستان میں انٹرنیشنل سیکورٹی فورسز یا پاکستانی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہوں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران ان تنظیموں کے کچھ افراد کو حراست میں لیا ہے جنہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ان تنظیموں کی طرف سے پاکستان میں رہائش پذیر چینی باشندوں کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کے پیش نظر پاکستان میں چین کے سفارت کاروں کی سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے جب کہ ڈی آئی جی سکیورٹی ڈویژن کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ چینی سفارت کاروں کی سکیورٹی کے لیے جامع انتظامات کریں اور اس بارے میں وزارت داخلہ کو آگاہ کیا جائے۔

اسی بارے میں