پاکستان کے قبائلی امریکی ڈرون حملوں کے حامی

Image caption پاکستان میں سنہ 2004 سے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے

پاکستان میں سنہ 2004 سے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، نیو امریکہ فاونڈیشن نامی تھنک ٹینک کے مطابق پاکستان میں رواں سال کے دس ماہ کے دوران بیس ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جن میں سترہ شمالی اور تین جنوبی وزیر ستان میں کیے گئے۔

امریکی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں 104 سے 127 افراد ہلاک ہوئے جن میں صرف تین سے پانچ عام شہری تھے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ان بیس ڈرونز حملوں میں سترہ کا ٹارگٹ غیر واضح تھا جبکہ چار حملوں میں طالبان، دو میں القاعدہ اور ایک میں حقانی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کے ایوانوں، جلسہ گاہوں اور میڈیا سے بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر شہری ڈرون حملوں کا مخالف ہے، لیکن کچھ تحقیقی رپورٹس اور سروے بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں۔

ایک امریکی تھنک ٹینک پی ای ڈبلیو ریسرچ گلوبل انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ سنہ 2010 میں بیس فیصد افراد ڈرون حملوں کی حمایت کرتے تھے جبکہ اگلے چھ ماہ بعد اس کی حمایت بڑھ کر چوبیس فیصد ہوگئی لیکن اس کے بعد سے اس حمایت میں مسلسل کمی ہوتی گئی اور سنہ 2012 کے سروے کے مطابق صرف سترہ فیصد لوگ ڈرون حملوں کے حمایتی تھے۔

اس سے پہلے مقامی ادارے آریانہ انسٹیٹیوٹ فار ریجنل اسٹڈیز اینڈ ایڈوکیسی کے سنہ 2009 کے سروے کے مطابق قبائلی علاقوں کے اس سروے میں شریک باون فیصد افراد کا خیال تھا کہ ڈرونز حملوں کی سمت درست ہے اور ساٹھ فیصد کا ماننا تھا کہ ان حملوں سے شدت پسند کمزور ہوئے ہیں۔

آریانہ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے شہری علاقے اور مڈل کلاس کا وہ طبقہ جو ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ساتھ زیادہ وابستہ ہے اس کا خیال ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں اور اس سے عام لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

’ڈرون حملوں میں اضافے سے مقامی طور پر مثبت نتائج نکلتے ہیں کیونکہ جب کبھی بھی ڈرون حملوں کا تناسب بڑھا ہے تو مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ شدت پسندی کے واقعات میں کمی آئی ہے، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بھی کم ہوتی ہیں، اس کے علاوہ جب شدت پسندوں کی نقل و حرکت میں مشکلات آتی ہیں تو عام لوگوں کی نقل حرکت آسان ہوجاتی ہے‘۔

امریکہ کی یونیورسٹی انڈیانا میں پی ایچ ڈی کے طالب علم زبیر محسود جنوبی وزیر ستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کےگاؤں میں بھی ڈرون حملہ ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مقامی افراد کا خیال ہے کہ ڈرون واحد ہتھیار ہے جو ان لوگوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے جنہوں نے قبائلی لوگوں کی زندگی جہنم بنادی ہے۔

’ لوگ اس کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں کہ جو ڈرون حملہ ہوتا ہے وہ نشانے پر لگتا ہے اور اس میں مارے جانے والے اکثر دہشت گرد ہوتے ہیں، لیکن اس کے برعکس پاکستانی فوج نے جب بھی آپریشن کیے ہیں، اس کے نتیجے میں بے شمار گھروں، سکولوں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا لیکن اس کے باوجود آج تک کسی ایک بڑے دہشت گرد کا نام نہیں لے سکتے جو آپریشن میں گرفتار یا مارا گیا ہو‘۔

نیک محمد، بیت اللہ محسود، ملا نذیر اور مولوی ولی الرحمان جیسے انتہائی مطلوب طالبان رہنما بھی امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہوئے جن تک پاکستانی فورسز رسائی حاصل نہیں کرسکیں تھیں۔

پاکستان کی حکومت ڈرون حملوں کی سرعام مخالفت کرتی رہی ہے لیکن اندرونی طور پر اس کی حمایتی نظر آتی ہے، پرویز مشرف ہوں یا سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ان حملوں کی حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اس کی گواہی امریکہ کی سابق سفیر این پیٹرسن کے وکی لیکس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مراسلے سے ملتی ہے۔

پیٹرسن نے اگست سنہ 2008 کے اپنے مراسلے میں یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کا حوالہ دیا تھا اور کہا کہ اس وقت کے وفاقی وزیر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ باجوڑ آپریشن تک ڈرون حملوں کو روکنا چاہیے لیکن یوسف رضا گیلانی نے اس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے جاری رہنے چاہیں، ان پر قومی اسمبلی میں احتجاج کریں گے اور بعد میں نظر انداز کریں گے۔

پاکستانی فوج کے سابق برگیڈیئر اور دفاعی تجزیہ نگار محمد سعاد کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ان حملوں میں پاکستان کی رضامندی شامل ہو، خاص طور پر جب پرویز مشرف سربراہ مملکت تھے۔

’ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے تک تو ڈرونز پاکستان سے اڑتے رہے، اس کے بعد شمسی ایئر بیس خالی کرایا گیا ہے، مطلب تو یہ ہوا کہ جو ڈرون آپ کے علاقے سے اڑ رہا ہے اس میں آپ کی رضامندی تو شامل ہوگی‘۔

دفاعی تجزیہ نگار محمد سعاد کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ڈورن حملوں سے امریکہ اور پاکستان کو فائدہ پہنچا ہو، لیکن اس کی بنیاد پر وہ لوگ جو دوسرے کے جذبات بڑھکا رہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

’لوگ ڈرونز کے خلاف ہوں گے لیکن ساتھ میں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ہمارے پاس بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسرے ممالک میں جاکر دہشت گردی کرتے ہیں یا پاکستان میں سورش میں ان کا ہاتھ ہے، اگر ڈرون حملوں سے حکومت کی خود مختاری متاثر ہوتی ہے تو وہ بھی یہ خود مختاری پامال کر رہے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کی اجازت کے بغیر اس کی سر زمین پر بیٹھے ہیں اور دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

اسی بارے میں