شریف کے دورے پر سیاسی جماعتیں غیر مطمئن

Image caption اوباما کو نواز شریف نے پاکستان دورے کی دعوت دی

پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے وزیرا عظم نوازشریف کے دورہ امریکہ کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دورہ ایک ’ ہائی پروفائل‘ فوٹو سیشن کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا جس سے بظاہر پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر قمرزمان قائرہ نے بی بی سی سے گفتگو میں اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح وزیر اعظم نوازشریف اپنے ساتھ مطالبات کی ایک بڑی لسٹ لے کر گئے تھے ان میں بظاہر کسی بھی مطالبے پر ان کو ریاعت نہیں مل سکی۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سب سے بڑا مطالبہ ڈرون حملوں کا خاتمہ، عافیہ صدیقی کی رہائی، توانائی بحران کا حل ، تجارت اور عالمی منڈیوں تک رسائی وغیرہ شامل ہے لیکن ان میں کسی بھی مطالبے پر امریکہ کی جانب سے کوئی حوصلہ افزاء اور مثبت جواب نہیں مل سکا ۔

ان کے بقول ’اگر طالبان سے مذاکرات کے تناظر میں ڈرون حملوں پر امریکہ کی طرف سے عارضی ریلیف بھی مل جاتی یعنی کچھ وقت کےلیے حملے روک دیئے جاتے تو اس سے حکومت کے ہاتھ مضبوط ہوتے اور وہ طالبان سے باقاعدہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ امریکہ اس خطے میں پائیدار امن نہیں چاہتا۔‘

قمرزمان قائرہ کے مطابق نوازشریف نے اپنا مقدمہ ضرور پیش کیا لیکن اس کے بدلے میں اسے وہاں سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خاطر مدارات، بڑے استقبال اور اچھا کھانا کھلانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ملک کےلیے کچھ حاصل کرنا تھا۔

ادھر خیبر پختون خوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف نے بھی وزیراعظم نوازشریف کے دورہ امریکہ کو ناکام قرار دیا ہے۔

تحریک انصاف کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور خیبر پختون خوا حکومت کے ترجمان شوکت علی یوسفزئی نے کہا کہ وزیراعظم کا موجودہ دورہ امریکہ ملک کے سابق حکمرانوں کے دوروں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران عوام کی نظریں اس بات پر لگی ہوئی تھی کہ شاید نوازشریف ڈرون حملوں کو بند کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ کل جماعتی کانفرنس میں فیصلہ ہوا تھا کہ امریکی حملوں کی مزید اجازت نہیں دی جائےگی لیکن وہ اس سلسلے میں مکمل طورپر ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس وقت امن کی آشد ضرورت ہے نہ کہ امداد اور پیسوں کی۔ ہمارے حکمران مانگنے میں تو بہت ماہر ہے لیکن جو حقیقی مسائل ہیں ان کی طرف توجہ کم ہی دی جاتی ہے اور اس دورے میں بھی وہی کچھ ہوا۔‘

صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر وزیراعظم صرف ڈرون حملے ہی بند کروانے میں کامیاب ہوجاتے اور اس کے علاوہ اور کچھ نہ کرتے تو اسے سب سے زیادہ کامیاب دورہ قرار دیا جاسکتا ۔

ادھر ملک کی مذہبی جماعتوں نے بھی وزیراعظم کے دورہ امریکہ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما پروفیسر ابراہیم خان نے کہا کہ نوازشریف نے امریکہ کا دورہ ایسے وقت کیا ہے جب طالبان سے مذاکرات کی بات زور پکڑتی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ امریکہ جانے کا یہ مناسب وقت نہیں تھا کیونکہ کل جماعتی کانفرنس کے بعد فیصلہ ہوا کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائے لیکن وزیراعظم امریکہ کے دورے پر چلے گئے تو اس سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ نوازشریف امریکہ سے کوئی ’لائن’ لینے گئے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے بھی حکومت کی طرف سے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی اور نہ اس پر کوئی واضح بات کی گئی ایسے میں اس دورے کا بظاہر تو کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا۔

ادھر دوسری طرف جمعیت علماء اسلام (ف) نے وزیراعظم نوازشریف کے دورہ امریکہ پر محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جے یوآئی کے صوبائی ترجمان جلیل جان نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ اس دورے کی کامیابی کا انحصار مستقبل پر ہوگا جب افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء مکمل ہوگا اور اس کے بعد پاکستان کے حوالے سے ان کی پالیسی کیا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم نے کل جماعتی کانفرنس کے فیصلوں کے مطابق ڈرون حملوں ، پاکستان کی خودمختاری اور اندرونی معاملات کے حوالے سے امریکی صدر کے سامنے دو ٹوک موقف اختیار کیا ہو تو اسے کامیاب دورہ کہا جاسکے گا ورنہ ناکام۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم نوازشریف نے امریکی صدر باراک اوباما سے واشنگٹن میں ملاقات کی تھی۔ اس سے پہلے پاکستان کے وزیراعظم اتوار کو امریکہ کے چار روز دورے پر واشنگٹن پہنچے تھے۔ وزیراعظم کا حلف لینے کے بعد یہ پہلہ دورہ تھا۔

اسی بارے میں