ساٹھ ہزار والدین کا پولیو قطرے پلانے سے انکار

پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں سے اب تک پولیو کے وائرس کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے اور قبائلی علاقوں میں ڈھائی لاکھ بچوں کو اس وائرس کے خاتمے کے لیے قطرے نہیں پلائے جا سکے۔ ہ ملک میں لگ بھگ ساٹھ ہزار والدین ایسے ہیں جنھوں نے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا ہے۔

گزشتہ دو روز میں پولیو کے تین مریض سامنے آئے ہیں جن میں دو کا تعلق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی اور ایک کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر شیخوپورا سے بتایا گیا ہے جس کے بعد اس سال اب تک انچاس بچوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے ۔

قبائلی علاقوں میں اس سال اب تک چھتیس مریضوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ تعداد سات ، پنجاب اور سندھ سے تین تین اور صوبہ صوبہ بلوچستان سے اس سال کوئی مریض سامنے نہیں آیا ہے ۔

خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کے فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ آبادی کے اعتبار سے خیبر پختونخوا اور فاٹا میں سب سے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں جو کہ تشویشناک ہے ۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی اور فوجی آپریشن کی وجہ سے ٹیمیں ان علاقوں میں نہیں جا سکتیں جس وجہ سے ان علاقوںمیں کوئی ڈھائی لاکھ بچے وائرس کے خاتمے کے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں تین سے پینتیس ہزار والدین نے اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے مختلف وجوہات کی بنیاد پر پلانے سے انکار کیا ہے جبکہ یہ تعداد سندھ میں اٹھارہ ہزار ، بلوچستان میں آٹھ ہزار ، پنجاب میں ایک ہزار اور قبائلی علاقوں میں صرف ساڑھے پانچ سو والدین نے یہ قطرے پلانے سے انکار کیا ہے ۔

خیبر پختونخوا کے سات اضلاع میں انسداد پولیو کی مہم شروع کر دی گئی ہے جس میں پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے وائرس کو ختم کرنے کے لیے قطرے پلائے جاییں گے۔ قطرے پلانے والی ٹیموں کے تحفظ کے لیے ہر ضلع کی سطح پر انتظامات کیے گئے ہیں اور حساس علاقوں میں ان ٹیموں کے ساتھ پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے۔

ڈاکٹر امتیاز کے مظابق قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ شمالی وزیرستان ایجنسی کا ہے جہاں سے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں اس لیے اب قبائلی علاقوں کے سرحد کے قریب تمام علاقوں میں انسداد پولیو کی مہم شروع کی جا رہی ہے تاکہ ان دنوں میں لوگوں کی جو نقل و حمل ہوتی ہے اس سے وائرس نہ پھیل سکے۔ سردیوں کے آغاز میں قبائلی علاقوں سے اکثر لوگ نقل مکانی کرکے شہری یا میدانی علاقوں کی جانب آ جاتے ہیں۔

پاکستان میں دو برس کے دوران اب انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے بھی شروع ہوئے ہیں ۔ خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو کے قطرے پلانے والے رضاکاروں اور پولیس اہلکاروں سمیت تیرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں تین خواتین اور ایک نوجوان لڑکا شامل تھا۔

اسی بارے میں