بلوچستان: قطر کے وزیر کی شکار پارٹی کے 4 اہلکار اغوا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں خلیجی ملک قطر کے توانائی اور صنعتوں کے وزیر عبداللہ بن حمد العطيۃ کی شکار پارٹی کے چار افراد کو ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ سے اغوا کر لیا گیاہے۔

ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے ان چار اہلکاروں کو اُس وقت اغوا کیاجب وہ مند کے علاقے سے دشت کی جانب آرہے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ منگل کو اسی ضلع کے علاقے بلیدہ میں قطری وزیر کے شکار کے لیے قائم ایک کیمپ پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس میں لیویز فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہوا تھا۔

منگل کو ہونے والے حملے میں مسلح افراد نے کیمپ سے دو گاڑیوں کو چھیننے کے علاوہ وہاں سے اسلحہ بھی چھین لیا تھا۔

اس حملے کے وقت وزیر خود کیمپ میں موجود نہیں تھے مگر اس حملے کے بعد ضلعے میں عرب شیخ کے شکار کیمپ کو بند کر دیا گیا تھا۔

اغوا کیے جانے والے چاروں افراد پاکستانی تھے جو قطری وزیر کے شکار کے لیے ان کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ اس سال فروری میں بھی قطری وزیر کی شکار پارٹی پر حملہ کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔

سردی کے موسم میں عرب اور خلیجی ممالک کے اکثر حکمران اور حکمران خاندانوں کے افراد شکار کے لیے بلوچستان آتے ہیں جنہیں بلوچستان اور سندھ کے اضلاع باقاعدہ حکومت کی جانب سے الاٹ کیے جاتے ہیں جس کی حدود میں وہ شکار کرتے ہیں۔

یہ عرب حکمران خاندان نایاب پرندے تلور (جسے انگریزی میں houbara bustard کہا جاتا ہے) کے شکار کے لیے آتے ہیں جس کی نسل کو نیاب ہونے کا خطرہ ہے۔

اس شکار کی اجازت وفاقی حکومت ہر سال ان عرب خاندانوں کو دیتی ہے اور ان کوسیکورٹی بلوچستان کا محکمۂ داخلہ فراہم کرتا ہے۔

بلوچستان کے جن اضلاع میں عرب شیوخ کو شکار کی اجازت دی جاتی ہے ان میں قلعہ سیف اللہ، چاغی، خاران، واشک، کیچ، لسبیلہ، جھل مگسی سمیت بعض دوسرے علاقے شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق تلور ہجرت کرنے والا پرندہ ہے جو روسی سائبیریا اور گردونواح کے علاقوں سے سردیوں میں بلوچستان اور پاکستان کے بعض دیگر علاقوں کا رخ کرتا ہے۔

بلوچستان کے سینئر صحافی سلیم شاہد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں اس پرندے کا جس بڑے پیمانے پر شکار کیا جاتا ہے اس سے اس کی نسل معدوم ہونے کا حقیقی خطرہ ہے۔

بلوچستان میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے اہم عہدے پر فائز رہنے والے اعلیٰ اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ان عرب شیوخ کے لیے تلور کا شکار کرنے کی ایک خاص حد مقرر ہے لیکن اس کی مانیٹرنگ کاکوئی نظام نہیں ہے، جس کے نتیجے میں یہ اندازہ بالکل نہیں ہے کہ ہر سال کتنے پرندے شکار کیے جاتے ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ محکمۂ جنگلات و جنگلی حیات کے اہلکاروں کو مخصوص تعداد میں پرندوں کا شکار کرنے کی پابندی پرعمل درآمد یقینی بنانا ہوتا ہے لیکن محکمے کے اہلکاروں کو ان عرب شیوخ کے کیمپوں کے قریب بھی نہیں جانے دیا جاتا جس کے نتیجے میں عمل درآمد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔