پاک بھارت ورکنگ باؤنڈری پر پھر کشیدگی

Image caption ہماری نامہ نگار کے مطابق اس علاقے کی گلیوں میں گولیوں، خول اور بموں کے ٹکڑے پڑے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں

پاکستانی فوج نے سیالکوٹ کے علاقے میں بھارت سے متصل ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ کا الزام عائد کیا ہے۔

جمعے کو ہونے والی فائرنگ میں مزید چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سیالکوٹ میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے چناب رینجرز کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر متین احمد خان نے بتایا کہ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس مکانوں، مساجد اور دوسری جگہوں کو نشانہ بنا رہی ہے اورگذشتہ ایک ہفتے میں ایک فوجی اور ایک شہری ہلاک جب کہ 14 زخمی ہوئے ہیں۔

پاک بھارت وزرائے اعظم ایل او سی فائر بندی پر متفق

ایل او سی کشیدگی: امن کے عمل میں دراڑ؟

ریڈیو پاکستان کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج صرف اپنے دفاع میں جوابی فائر کر رہی ہے۔

سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری سے متصل جو پاکستانی علاقے شیلنگ سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان میں چارواں اور جُوئیاں نامی دیہات شامل ہیں۔

اس علاقے کا دورہ کرنے والی بی بی سی اردو کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق ان دیہات میں لگ بھگ ہر گھر پر بموں کے ٹکڑوں کے نشان موجود تھے اور علاقے کی گلیوں میں گولیوں، خول اور بموں کے ٹکڑے پڑے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

مقامی افراد اور فوج کے مطابق اس علاقے میں چودہ اکتوبر سے فائرنگ شروع ہوئی جو اب تک جاری ہے۔ فائرنگ اور شیلنگ رات ہوتے ہی شروع ہوتی ہے اور صبح تک وقفے وقفے سے جاری رہتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہاں کے 90 فیصد مقامی افراد محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔ بعض افراد پیچھے رہ جانے والے جانوروں کو چارا دینے یا ضرورت کا سامان لینے دن کی روشنی میں اپنے گھروں کو آتے ہیں تاہم شام ہوتے ہی واپس چلے جاتے ہیں۔

پاکستانی فوج کے مطابق گیارہ دن سے جاری اس کشیدگی میں ایک فوجی اہلکار سمیت دو افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں۔

گذشتہ ماہ ستمبر میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم نیویارک میں ملاقات کے دوران اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ امن بات چیت میں پیش رفت کے لیے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حملوں کو روکنا ضروری ہے۔

تاہم اس اعلامیے کے بعد بھی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی کے واقعات میں کمی نہیں آئی۔ دونوں ممالک متواتر ایک دوسرے پر بلااشتعال فائرنگ کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں