الیکشن کمیشن تین صوبوں کی طرف سے بلدیاتی انتخابات مقررہ تاریخوں پر کروائے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ تین صوبوں کی طرف سے بلدیاتی انتخابات مقررہ تاریخوں پر کروا دیے جائیں اور حکم عدولی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ملک میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ حکم دیا۔

الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں مشکلات کا سامنا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کردیا اور تین صوبوں کی طرف سے دی جانے والی تاریخوں پر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخابات نہ کروانے پر سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک پر توہین عدالت کے مقدمے میں چار نومبر کو فرد جُرم عائد کی جائے گی۔

یاد رہے کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق صوبۂ پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ سات دسمبر کو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کروانے کو تیار ہیں جب کہ صوبۂ سندھ کی حکومت نے سپریم کورٹ کو 27 نومبر کو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کروانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت نے ابھی تک سپریم کورٹ کو بلدیاتی انتخابات سے متعلق کوئی تاریخ نہیں دی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے جج کسی حد تک عدالت کا تمسخر اُڑانے کو تو برداشت کرسکتے ہیں لیکن یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ عدالتی احکامات کی حکم عدولی کی جائے۔

سیکریٹری دفاع آصف یاسین ملک کور کمانڈر پشاور ہونے کے علاوہ فوج کے اہم اور حساس عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری دفاع نے عدالت میں یہ بیان دیا تھا کہ وہ کنٹونمنٹ بورڈ میں پندرہ ستمبر تک انتخابات کروا دیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کے اس بیان کے بعد سپریم کورٹ نے متعلقہ حکام کو 15 ستمبر تک کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا۔

بروقت انتخابات نہ کروانے پر عدالت نے سیکریٹری دفاع کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجہ کا نوٹس جاری کیا تھا جس کا اُنہوں نے عدالت میں جواب بھی جمع کروایا تھا اور آصف یاسین ملک نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔ عدالت نے سیکریٹری دفاع کا بیان مسترد کردیا ہے۔

آصف یاسین ملک کے وکیل افتخار گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ وزیرِ دفاع کا عہدہ وزیر اعظم نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے جب کہ اُن کے موکل نے وزیر اعظم کو متعدد بار کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخابات کروانے سے متعلق سمری بھجوائی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اب عدالت وزیر اعظم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرے؟

اُنہوں نے سیکریٹری دفاع کے وکیل سے کہا کہ کارروائی چلنے دیں پھر دیکھتے ہیں کہ انتخابات کروانے میں کون رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

دریں اثنا بلدیاتی انتخابات مقررہ تاریخوں پر کروانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس 28 اکتوبر کو طلب کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے اہلکار خورشید عالم کے مطابق یہ اجلاس قائم مقام الیکشن کمشنر جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں منعقد ہوگا۔

اس اجلاس میں چاروں صوبائی الیکشن کمشنر شرکت کریں گے جبکہ 29 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں تینوں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں کے علاوہ نادرا، شماریات اور پوسٹ آفس محکمے کے حکام شرکت کریں گے۔

اسی بارے میں