ڈیرہ اسماعیل خان:’ڈرون حملے بند نہ ہوں تو امریکہ سے اتحاد ختم کر دیں‘

Image caption ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں تین سو سے زیادہ ڈرون حملوں میں تقربیاً ڈھائی ہزار افراد ہلاک ہوئے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں مقامی افراد اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلیوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحاد کو ڈرون حملوں کی بندش سے مشروط کیا جائے۔

مظاہرین نے یہ مطالبہ اتوار کو امریکی ڈرون حملوں کے خلاف ہونے والے اجتجاجی جلسے کے دوران کیا۔

پاکستان کے قبائلی امریکی ڈرون حملوں کے حامی

’ڈرون حملے پاکستان امریکہ تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہیں‘

ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی ریلی ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے گاڑیوں میں روانہ ہوئی اور پچاس کلومیٹر دور صوبہ پنجاب کی سرحد کے قریب رمک میں پہنچی جہاں جلسہ منعقد کیا گیا۔

مقررین نے ریلی میں امریکہ کے خلاف سخت نعرہ بازی کی اور ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔

مقررین نے ریلی سے خطاب میں کہا کہ اگر امریکہ ڈرون حملے بند نہیں کرتا تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس سے اتحاد ختم کرے۔

اس احتجاجی ریلی کے سربراہ مدو خان گوہر وزیر نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ وہ ان حملوں کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ڈرون طیاروں کے حملوں میں بے گناہ افراد مارے جا رہے ہیں اور وہ ان کے خلاف سپریم کورٹ میں آواز اٹھائیں گے اور اگر انھیں وہاں سے کوئی مثبت جواب نہ ملا تو وہ عالمی عدالتِ انصاف میں امریکہ اور امریکی صدر کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔

مدو خان گوہر نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اور حکومتِ پاکستان قبائلی علاقوں میں شہریوں کو تحفظ فراہم کریں اگر وہ تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو قبائلیوں کو خود اپنا دفاع کرنے کی اجازت دیں۔

ادھر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے گذشتہ روز اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ڈرون حملے نہ روکے گئے تو ان کی حکومت جلد اس کے بارے میں کوئی اہم فیصلہ کر سکتی ہے۔

صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ وہ کیا ایسا فیصلہ کر سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ نیٹو افواج کی سپلائی روک سکتے ہیں۔ تاہم انھوں نے اس کی کوئی مزید وضاحت نہیں کی۔

انھوں نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات جلد شروع کرے تاکہ اس خطے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکے۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تین سو سے زیادہ ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں جن میں ڈھائی ہزار سے ساڑھے تین ہزار کے درمیان افراد ہلاک ہوئے۔رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد عام شہریوں کی بھی تھی۔

اسی بارے میں