لاپتہ افراد کے لیے کوئٹہ سے کراچی تک لانگ مارچ

بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے ان کے رشتہ داروں نے کوئٹہ سے کراچی تک لانگ مارچ کا آغاز کیا ہے۔

اس مارچ کا آغاز اتوار کی شام کوئٹہ پریس کلب سے ہوا اور اس کی قیادت وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے وائس چیئرمین عبد القدیر بلوچ کر رہے ہیں۔

بلوچستان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا احتجاج ہے جس کے شرکاء روزانہ صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک پیدل سفر کریں گے۔

کراچی پہنچ لاکر لانگ مارچ کے شرکاء وہاں علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کریں گے جبکہ اس سے قبل یہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ 1314 دن تک جاری رہا۔

لانگ مارچ کے آغاز کے موقع پر وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ دیکھا جائے تو پوری دنیا میں اس وقت بلوچستان میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے اور اب تو زلزلے سے متاثرہ علاقوں سے بھی لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں۔‘

لانگ مارچ کے شرکاء کی تعداد بیس ہے جن میں سے زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کاظم مینگل کے مطابق مارچ میں شریک چار سال سے لاپتہ طالب علم رہنما ذاکر مجید بلوچ کی بہن کا کہنا تھا کہ ’میرا بھائی چار سال سے جو اذیت سہہ رہا ہے اور میری ماں اس کے انتظار میں جو اذیت سہہ رہی ہے اس کے مقابلے میں کراچی تک پیدل مارچ کی مشقت کی کوئی حیثیت نہیں۔‘

بلوچستان میں لوگوں کے جبراً لاپتہ ہونے کا سلسلہ 2002 میں شروع ہوا تھا جس کے بعد سے ایسے افراد کی تعداد کے بارے میں متضاد دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

صوبائی محکمۂ داخلہ ان کی تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ہے جبکہ اتوار کو بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ نے ایک پریس کانفرنس میں یہ تعداد پندرہ سو سے زیادہ بتائی۔

وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے وائس چیئرمین قدیر بلوچ کے مطابق’2002 سے لیکر اب تک لاپتہ افراد کی تعداد اٹھارہ ہزار ہے جبکہ جن افراد کی باقاعدہ رجسٹریشن ہوئی ہے ان کی تعداد ڈھائی ہزار ہے۔‘

بلوچستان میں لوگوں کی جبری گمشدگی ساتھ ساتھ 2010 سے مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ بھی شروع ہوا تھا اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک ملنے والی ایسی لاشوں کی تعداد 592 ہے۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد لاپتہ افراد کی لاشوں کی ہے۔

حکومتی شخصیات کا دعویٰ ہے کہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد لاشیں ملنے کے واقعات میں کمی آئی ہے مگر قدیر بلوچ اس سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے ’موجودہ حکومت کے دور میں لوگوں کو لاپتہ کرنے میں تیزی آئی ہے ۔ پہلے دو دو تین تین افراد کو اٹھایا جاتا تھا لیکن موجودہ دور میں درجنوں افراد کو ایک ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔‘

اسی بارے میں