’ریپ انگریزی کا لفظ ہے، میں نہیں جانتا‘

Image caption شیرانی صاحب کہتے ہیں کہ وہ کونسل سے کوئی معاوضہ وصول نہیں کرتے

اسلامی نظریاتی کونسل کا دفتر زرد اینٹوں سے بنی جدید اسلامی طرزِ تعمیر کی عمارت ہے۔ باہر ہری اور نیلی ٹائیلوں سے سجی مسجد ہے، اندر کھلا صحن ہے جس سے متصّل راہداری سے چہل قدمی کی آوازیں آ رہی ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ سربراہ مولانا محمد خان شیرانی کے انٹرویو کے لیے جب مجھے اور میرے کیمرا مین کو ان کے کمرے میں بلایا گیا تو مولانا صاحب کچھ ساتھیوں سے ملاقات کر رہے تھے۔

مہمانوں کو جلد فارغ کرنے کے بعد انھوں نے مڑ کر مجھ سے پوچھا کہ اگر امریکی فوجیوں کا افغانستان سے انخلا ہو جائے تو کیا پاکستان میں بم دھماکے ختم ہو جائیں گے؟

عالمی سیاست پر کچھ دیر بحث رہی، پھر انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں کتابیں لکھنا چاہتی ہوں اور کس قسم کی؟ میں نے جب بتایا کہ مجھے ادب کا شوق ہے، تو وہ کچھ مایوس نظر آئے۔

75 سالہ مولانا محمد خان شیرانی جماعتِ علمائے اسلام (ف) کے رہنما ہیں اور اپنی جماعت کے صوبائی سربراہ اور سینٹ اور قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

حالیہ عام انتخابات میں بھی انھوں نے بلوچستان سے قومی اسمبلی کی نشست جیتی تھی۔ یہ تمام تفصیلات ان کے فیس بک صفحے سے معلوم ہوئیں۔ ان کے فیس بک کے صفحے پر یہ بھی لکھا تھا کہ ان کا پسندیدہ ٹی وی پروگرام ’بی بی سی‘ ہے۔

بطور کونسل کے سربراہ مولانا صاحب کی مدت ان کے بقول نومبر میں پوری ہو رہی ہے۔ 2010 میں جب انھیں اس عہدے سے نوازا گیا تو میڈیا میں کہا جا رہا تھا کہ سابق صدر آصف زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو خوش کرنے کے لیے شیرانی صاحب کو سربراہ بنایا ہے۔

شیرانی صاحب کہتے ہیں کہ وہ کونسل سے کوئی معاوضہ وصول نہیں کرتے اور ’یہ تو صدر کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ جس کو چنیں۔‘

دوسری جانب سپریم کورٹ کی شرعی ایپلٹ بینچ کے ایڈہاک رکن اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مسعود کہتے ہیں: ’اس وقت جو اعتراض کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کونسل کے اکثر ارکان خود سینیٹ یا اسمبلی کے بھی رکن ہیں یا کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے عہدےدار ہیں۔ کسی آئینی ادارے کو سیاست سے بالا تر ہونا چاہیے لیکن یہ بات اس کونسل میں نظر نہیں آتی۔‘

سیاست میں الجھنے کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل پر جو تنقید کی جاتی ہے اس میں یہ بات شامل ہے کہ اس کا بنیادی مقصد پاکستان کے قوانین کا قرآن اور سنت کے مطابق جائزہ لینا اور پھر پارلیمان کو سفارشات پیش کرنا ہے۔

تاہم سنہ اسّی کی دہائی، یعنی سابق صدر ضیا الحق کے دور کے بعد، کونسل کی کسی سفارش پر پارلیمان میں بحث نہیں ہوئی۔ مولانا شیرانی صاحب کہتے ہیں کہ ان کی کچھ مصروفیات کی وجہ سے وہ پارلیمان کی عدم دلچسپی سے نمٹ نہیں پائے۔

دوسری جانب ڈاکٹر خالد مسعود کا تجربہ ہے کہ پارلیمان میں ’سیاسی پالیسی ابہام کا شکار ہے۔۔۔ لبرل جماعتیں تنازعات میں پڑنا نہیں چاہتیں اور مذہبی جماعتیں بات نہیں کرنا چاہتیں‘۔

کونسل کے سب سے زیادہ مخالف حقوقِ نسواں کے کارکن ہیں۔ یہ محاذ آرائی تو ضیا الحق کے زمانے میں حدود آرڈنیننس سے شروع ہوئی۔ حدود آرڈنینس کونسل کی سفارش پر متعارف ہوا تھا۔

حقوقِ نسواں کے کارکن کہتے ہیں کہ اس قانون کے تحت ریپ کی شکار خواتین چونکہ چار گواہ پیش کر کے جرم ثابت نہیں کر پاتی تھیں اس لیے انھیں زنا کے الزام میں قید کر دیا جاتا تھا۔بعد ازاں سنہ 2006 میں حدود آرڈنینس میں ویمنز پروٹیکشن ایکٹ کے ذریعے ترمیم کی گئی۔

اس ترمیم کے ذریعے ریپ کیسز کی شکایات حدود قوانین کے تحت نہیں بلکہ سول قوانین کے تحت درج کی جاتی ہیں۔

حقوقِ نسواں کی کارکن ڈاکٹر فرزانہ باری نے بتایا کہ یہ نیا قانون کتنا مؤثر ہے، اس کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک تحقیق کے مطابق ’ویمنز پروٹیکشن ایکٹ کے تحت اب پولیس کیس درج نہیں کرتی، سول جج کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ جج جائزہ لیتے ہیں کہ کیا یہ زنا ہے یا ریپ، جس کی وجہ سے زنا کے کیسز میں بہت کمی آئی ہے۔‘

ویمنز پروٹیکشن ایکٹ کے خلاف اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے ستمبر کے اجلاس میں اعتراضات کیے۔ جب میں نے مولانا شیرانی سے پوچھا کہ قانون متعارف ہونے کے بعد اتنے سال گزر گئے ہیں تو اب اعتراض کیوں؟ تو انھوں نے گول مول جواب دیا۔

تاہم، مولانا صاحب نے اپنے اوپر کیے گئے اعتراضات کی بڑی لمبی وضاحت پیش کی کہ ’مغربی جمہوریت کی بنیاد فرد کی آزادی پر ہے اور اس میں زنا بذاتِ خود سنگین جرم نہیں ہے۔‘

Image caption کونسل کے سب سے زیادہ مخالف حقوقِ نسواں کے کارکن ہیں

اس پر میں نے جب پوچھا کہ آپ کی نظر میں کونسا زیادہ بڑا جرم ہے ’ریپ یا زنا۔‘

تو بھولے پن میں انہوں نے کہا: ’ریپ؟ یہ تو انگریزی کا لفظ ہے، میں اس کو نہیں جانتا۔‘

جواب نہ ملنے پر میں نے پھر پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا۔ ’بڑا جرم تو زنا ہے۔ زنا الگ جرم ہے، جبر الگ جرم ہے۔‘

ڈاکٹر خالد مسعود نے ریپ کی تعریف پر مضمون لکھا ہے جس میں وہ کہتے ہیں ’ممکن ہے کہ سنہ 1979 کے حدود آرڈنینس کو اسلامی نظریاتی کونسل نے تحریر کیا ہو۔ اس میں ریپ کے لیے زنا بالجبر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جبکہ یہ لفظ نہ قرآن، نہ حدیث اور نہ ہی فقہ میں پایا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ لفظ اس لیے ایجاد کیا گیا تھا تاکہ کہا جا سکے کہ ’زنا اور زنا بالجبر میں کوئی فرق نہیں ہے۔‘

ایک الفاظ کی تعریف پر اتنا ابہام ہے، تو اسلامی نظریاتی کونسل کیسے فعال ہو سکتی ہے؟

اسی بارے میں