20 افراد کی ہلاکت کے بعد لیاری کی صورت حال معمول پر آ گئی

Image caption کراچی کا علاقہ لیاری گزشتہ کئی دہائیوں سے منشیات فروشوں، بھتہ خوروں، اغوا کاروں اور دوسرے جرائم پیشہ افراد کا ٹھکانہ رہا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے لیاری میں گزشتہ چار روز کی کشیدگی کے بعد صورتِ حال ایک بار پھر معمول پر آ گئی ہے اور دو روز سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

لیاری میں گزشتہ چار روز سے کشیدگی جاری تھی، جس کے دوران مسلح گروہوں میں تصادم کی وجہ سے 20 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی ثانیہ ناز کا کہنا ہے کہ دونوں گروہوں نے ان کی بات مان لی ہے اور مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

کالعدم امن کمیٹی کی سرگرم رکن ثانیہ ناز نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ بلوچی روایت کے مطابق اگر کوئی بہن یا بیٹی درمیان میں آ جائے تو ہزاروں خون معاف کر دیے جاتے ہیں، چونکہ لیاری کے لوگوں نے انھیں ووٹ دیا ہے اس لیے ان کے جان اور مال کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے۔

انھوں نے کہا ’میں نے دونوں گروہوں سے بیٹھ کر مذاکرات کرنے کو کہا کیونکہ امن کمیٹی کے سربراہ عذیر بھائی بھی نہیں چاہتے کہ لڑائی جھگڑا ہو اور عوام کو نقصان پہنچے۔ ہم نے ان کے پاس بزرگوں کو بھیجا جس کے بعد معاملات ٹھیک ہوگئے ہیں‘۔

ادھر ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کالعدم امن کمیٹی میں اختلافات کے باعث پیدا ہوئی، امن کمیٹی گروہوں میں تقسیم ہوگئی ہے جس میں ایک گروہ کی سربراہی عذیر بلوچ اور دوسرے کی سربراہی بابا لاڈلا کر رہے ہیں۔

کراچی کا علاقہ لیاری گزشتہ کئی دہائیوں سے منشیات فروشوں، بھتہ خوروں، اغوا کاروں اور دوسرے جرائم پیشہ افراد کا ٹھکانہ رہا ہے، ان انھیں ظاہری یا اندرونی طور پر اہم سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔

لیاری میں حالیہ کشیدگی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ دونوں گروہ اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں۔ رکن صوبائی اسمبلی ثانیہ ناز کا کہنا ہے کہ کسی تیسرے فریق نے غلط فہمیاں پیدا کی ہیں۔’ وہ سیدھے سادھے سے ہیں، لوگوں نے اس کا فائدہ اٹھا لیا لیکن ہم نے ان کوششوں کو ناکام کردیا ہے‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر یوسف بلوچ بھی لیاری کے سیاسی اور انتظامی معاملات میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بے مقصد لڑائی ہو رہی تھی اس کی ڈور کہاں سے ہلائی جارہی تھی اس کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

’جو مسلح گروہ آپس میں لڑ رہے ہیں، ان کے کچھ مفادات ہیں لیکن یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ وہ مفادات کیا ہیں؟ پیسے کی جنگ ہو رہی ہے بھتے کی جنگ ہو رہی ہے یا حقوق کی جنگ ہو رہی ہے کچھ پتہ نہیں چلتا۔

سینیٹر یوسف بلوچ نے موجودہ حالات میں ثالثی کی کوششوں کی تردید کی، ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی لوگوں کے ساتھ مل کر مسئلے کا حل تلاش کر لیتے تھے اب اس مسلح گروہوں کے ساتھ تو نہیں بیٹھ سکتے ۔

انھوں نے کہا ’ظفر بلوچ جیسے سیاسی کارکن کو نشانہ بنایا گیا، اب جب غیر مسلح لوگوں کو نشانہ بنایا جائے گا تو جان ہر کسی کو عزیز ہے کوئی نہیں چاہتا کہ آگ میں کود پڑے۔‘

لیاری میں آپریشن کے دوران کالعدم امن کمیٹی کے رہنما عذیر بلوچ اور دوسرے گروہ کے رہنما بابا لاڈلا کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے، پولیس کا کہنا ہے کہ ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران بیس سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی جنوبی عبدالخاق شیخ کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز کی کارروائی غیر جانبدار ہے، ان کا کام حکومت کی رٹ کی بحالی ہے، ان کے مطابق عذیر بلوچ ہو یا بابا لاڈلا کسی کو بھی سردار ہونے نہیں دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور رینجرز نے کسی بھی گروہ کی مدد نہیں کی، حالیہ آپریشن کے بعد قانون کی رٹ بحال کردی گئی ہے اگر سیاسی مداخلت نہ ہوئی تو لیاری میں دوسرے آپریشن کی ضرورت نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ رینجرز نے کارروائی کے دوران غیر اعلانیہ کرفیو بھی نافذ کیا تھا، جس کے بعد صورت حال میں مثبت تبدیلی آئی۔

اسی بارے میں