سندھ کا بلدیاتی نظام سپریم کورٹ میں چیلینج

ڈاکٹر فاروق ستار
Image caption ڈاکٹر فاروق ستار خود سنہ انیس سو اناسی کے نظام کے تحت منعقد بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے میئر منتخب ہوچکے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ کے بلدیاتی نظام کو سپریم کورٹ میں چیلینج کردیا ہے اور اس نظام کو آئین کے متصادم قرار دیا ہے۔

قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین کی آرٹیکل 140 اے کہتی ہے کہ تمام صوبوں کو مقامی حکومتوں کا ایک موثر، خود مختار اور عوامی نظام قائم کرنا ہے، جس کے لیے سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات بھی مقامی حکومتوں کے حوالے کرنا ہوں گے۔

سندھ کا متنازع بلدیاتی نظام

بلدیاتی انتخابات، سیاسی جماعتوں کے خدشات

ڈاکٹر فاروق ستار کے مطابق سندھ حالیہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ دراصل 1979 کے لوکل باڈیز ایکٹ کا چربہ ہے۔’ یہ ایک فرسودہ اور گلاسڑا مقامی حکومت کا نظام وضح کرتا ہے، جس میں ذمے دریاں تو مقامی حکومت کو دی جارہی ہیں، لیکن انہیں اختیار نہیں دیا جارہا‘۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار خود سنہ انیس سو اناسی کے نظام کے تحت منعقد بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے میئر منتخب ہوچکے ہیں، بعد میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں متعارف کرائے گئے نظام میں مصطفیٰ کمال شہر کے ناظم رہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ انہوں نے آئینی درخواست میں استدعا کی ہے کہ حالیہ بلدیاتی قانون کو مکمل طور پر کالعدم قرار جائے یا کم سے کم اس کی آئین سے متصادم شقوں کو کالعدم قرار دیکر صوبائی حکومت کو یہ احکامات جاری کیے جائیں کہ وہ اس قانون میں ایسی ترامیم کرے جس سے مقامی حکومت کا مؤثر، خود کار اور خود مختار نظام وضح ہوسکے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی جارہی ہے، اب اگر عدالت سے متحدہ قومی موومنٹ کو اسٹے آرڈر مل گیا تو پھر انتخابات روکنا پڑیں گے ورنہ مقررہ وقت پر ہی انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ انتخابات کراؤ اب ہائی کورٹ کیا یہ کہہ گی کہ انتخابات نہ کراؤ‘؟

یاد رہے کہ گزشتہ حکومت میں دونوں اتحادی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں بلدیاتی نظام پر پونے پانچ سال تک مذاکرات جاری رہے، کئی بار اتفاق بھی کیا گیا لیکن بعد میں ایم کیو ایم نے حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی۔

گزشتہ ہفتے دونوں جماعتوں کا بڑے عرصہ کے بعد پھر رابطہ بحال ہوا تھا۔ دبئی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے ساتھ ایم کیو ایم کے وفد نے ملاقات کی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا، جس کے بعد یہ پٹیشن سامنے آئی ہے۔

سپریم کورٹ میں ایم کیو ایم نے ایک ایسے وقت میں بلدیاتی نظام کے قانون کو چیلینج کیا ہے جب منگل سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں بینچ کراچی بدامنی کیس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی سماعت کر رہا ہے۔

اسی بارے میں