سندھ: متعدد شہروں میں بم دھماکے،ایک ہلاک

Image caption کراچی میں حکومت جرائم پیشہ افراد کے خلاف رینجرز کے ذریعے آپریشن کر رہی ہے

سندھ کے کئی شہروں میں منگل کی شام ’کریکر‘ دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں ایک شخص ہلاک اور ایک شخص زخمی ہوگئے ہیں۔ کسی بھی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے علاقوں حیدر چوک ، قاسم آباد اور لبرٹی چوک پر بھی ’کریکر‘ دھماکے ہوئے ہیں۔ لبرٹی چوک پر فائرنگ اور دھماکے کے دوران طفیل لودھی نامی شخص ہلاک ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی موت کی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے۔

اس کے علاوہ قاسم آباد میں پولیس کے شکایتی مرکز پر کریکر حملے سے حمید اور اسد چنا نامی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

حیدرآباد کے قریبی شہروں کوٹڑی اور جام شورو میں بھی نامعلوم افراد نے کریکر پھینکے۔ کوٹڑی شہر میں ایک کار سمیت دو گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا جس کے بعد قومی شاہراہ، انڈس ہائی وے اور سپر ہائی وے پر ٹریفک میں کمی آئی ہے۔

اس کے علاوہ دادو، جوھی، ہنگورجا، فیض گنج، میھڑ اور لاڑکانہ شہر میں بھی کریکر دھماکے ہوئے ہیں، جن کے بعد بازار بند ہوگئے ہیں۔

محرابپور ریلوے سٹیشن کے قریب ریلوے پٹری پر ایک بم دھماکہ ہوا ہے، جس کے بعد ریلوے آمدرفت معطل ہوگئی ہے۔ ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے سے پانچ انچ کے قریب پٹڑی متاثر ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ علیحدگی پسند قوم پرست جماعت جئے سندھ متحدہ محاذ نے تحفظ پاکستان آرڈیننس نامی قانون کے خلاف بدھ کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

جئے سندھ متحدہ محاذ کے سربراہ شفیع برفت نے اخبار میں شائع کیے گئے ایک اشتہار میں سندھی اور اردو بولنے والوں کو مخاطب ہو کر کہا ہے کہ سندھ کی ’قومی غلامی‘ کے خلاف سندھی عوام کی جدوجہد کو دبانے کے لیےکالے قوانین بنائے گئے ہیں جن کے تحت کسی بھی سندھی کو گرفتار کر کےگم کردیا جائے گا یا عقبوت خانوں میں رکھ کر بربریت کا نشانہ بنایا جائے گا۔

جئے سندھ متحدہ محاذ نے اس ’سیاہ‘ قانون کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا ہے، اور عام اپیل کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، طلبہ، مزدور ، ٹرانسپوٹر اور صحافی ان کا ساتھ دیں۔

یاد رہے کہ پاکستان حکومت نے انسداد دہشت گردی کے لیے تحفظ پاکستان آرڈیننس متعارف کرایا ہے، جس میں تخریب کاری کو ریاست کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت بم دھماکے، ریلوے ٹریک اور بجلی کے ہائی ٹرانسمیشن لائن کے کھمبوں کو بم سے اڑانے کو بھی پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

ماضی میں بھی جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکنوں پر ریلوے ٹریک اور بجلی کے کھمبوں پر حملوں کے الزام میں مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں