نیب: عمران خان نے چیئرمین کی تعیناتی سپریم کورٹ میں چیلینج کر دی

چودہری قمر زمان
Image caption حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان کئی دنوں سے مشاورت جاری تھی کہ نیب کا نیا چیئرمین کسے ہونا چاہیے اور دونوں جانب سے کئی ناموں پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا

پاکستان تحریک انصاف نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی تعیناتی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

منگل کو سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ قمر زمان چوہدری نیب کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے سیکرٹری داخلہ کے عہدے پر تعینات تھے اور ان کی تعیناتی نیب کے آرڈیننس کی شق آٹھ کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سر براہ عمران خان کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ یا مستعفی ہونے کے بعد ایک خاص مدت تک کوئی بھی آئینی عہدہ نہیں رکھ سکتا اس لیے تعیناتی کو کالعدم قرار دیا جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عمران خان کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ ججز پر پابندی ہے کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے دو سال تک کوئی آئینی عہدہ نہیں رکھ سکتے اور یہی پابندی سرکاری ملازمین پر بھی عائد ہوتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ قمر زمان چوہدری کو ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی اس اہم آئینی عہدے پر تعینات کردیا گیا ہے جو کہ کسی طور پر بھی آئینی اقدام نہیں ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی مشاورت کے بعد قمر زمان چوہدری کو نیب کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا جس کے بعد قمر زمان چوہدری نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف نے اس تعیناتی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ قائد حزب اختلاف نے اس ضمن میں اُن سے مشاورت نہیں کی۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نیب کے دو سربراہوں کی تعیناتی کے لیے وزیراعظم کی اُس وقت کے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کے ساتھ بامقصد مشاورت نہ ہونے پر جسٹس ریٹائرڈ دیدار حیسن شاہ اور ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری کی تعیناتی کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔

قمر زمان چوہدری نے نیب کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کے خلاف کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی تھی۔

اسی بارے میں