کچے گھروں کو گولی کا خطرہ

Image caption دیہاتیوں نے گھروں میں مورچے اور پناہ گاہیں بنانا شروع کر دی ہیں

پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی جہاں دونوں ممالک کی حکومتوں اور فوج کے لیے دردِ سر ہے وہیں یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اس عبوری سرحد پر رہتے ہیں۔

پاکستانی اور بھارتی فوج کی چوکیوں کے بیچوں بیچ اپنی معمول کی زندگی جینے پر مجبور ان لوگوں کے لیے دو ہزار پانچ کے زلزلے کے بعد پریشانی دوگنی ہو گئی ہے۔

مٹی اور کنکریٹ کے گنے چنے مکانات ڈھے جانے کے بعد ٹین کی چادروں سے بنے مکانات انہیں زلزلے سے تو بچا سکتے ہیں لیکن گولی سے نہیں۔

سنہ انیس سو اٹھانوے میں شبانہ یٰسین کی عمر چار برس تھی اور انہیں سکول جاتے ہوئے صرف تین ماہ کا ہی عرصہ ہوا تھا کہ ایک دن انہیں گاؤں چھوڑنا پڑا۔

پہاڑوں کے دامن میں چکوٹھی نامی گاؤں کی مرکزی سڑک پر واقع ان کا سکول سامنے والی چوٹی پر موجود بھارتی فوج کے مورچوں کے براہِ راست نشانے پر تھا۔

شبانہ بتاتی ہیں کہ رات کے وقت گولیوں کی آواز انہیں اور بھی خوفزدہ کر دیتی تھی۔ ایک شام انہوں نے گاوں چھوڑ دیا اور برسوں تک لوٹ کر نہیں آئے۔

شبانہ کا خاندان سنہ دو ہزار پانچ کے زلزلے سے بھی متاثر ہوا۔ برسوں بعد یہ لوگ اپنے آبائی علاقے میں آباد ہوئے ہیں۔

شبانہ کہتی ہیں کہ وہ زلزلے جیسی قدرتی آفت سے زیادہ فائرنگ سے خوفزادہ ہو جاتی ہیں‘۔

Image caption لائن آف کنٹرول پر رہنے والے چوبیس گھنٹے اپنا گھر بار چھوڑنے کو تیار رہتے ہیں

’زلزلہ تو قدرتی آفت تھا جس کا کسی کو علم نہیں مگر فائرنگ سے ڈر لگتا ہے کیونکہ سب کو ڈر ہوتا ہے کہ نہ جانے کہاں سے گولی آئے اور ہم اس کا نشانہ بن جائیں‘۔

فوج سے ریٹائرڈ سپاہی ریاض شاہ کا گھر لائن آف کنٹرول سے محض دو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں سے بھارتی فوج کی چوکیاں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایل او سی پر فائرنگ اگر کوئی نئی بات ہو تو ان کے گھر والے خوفزدہ ہوں۔ انہیں تو جیسے عادت سی ہو گئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ معمول کی فائرنگ کی حد تک تو ٹھیک ہے تو لیکن جونہی لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ حالات زیادہ خراب ہیں تو وہ نقل مکانی کر جاتے ہیں۔

ریاض شاہ بتاتے ہیں کہ ’مقامی لوگوں نے چھوٹے پیمانے کی فائرنگ سے پچنے کے لیے گھروں میں مورچے بنا رکھے ہیں اور حالات خراب ہونے کی صورت میں نقل مکانی کے لیے گاؤں سے نکلنے کے راستوں پر مٹی اور پتھروں کی دیواریں بھی بنائی گئی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کے ان دیواروں کی اوٹ لے کر وہ محفوظ مقامات کی طرف نکل جاتے ہیں۔ تاہم وہ مانتے ہیں کہ توپخانے کے استعمال کی صورت میں یہ ڈھال بھی کسی کام نہیں آتی۔

انہوں نے بتایا کہ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے مکانات دور دور ہیں اور اچانک کشیدگی کی صورت میں فوج کے لیے سب کو خبردار کرنا ممکن نہیں ہے۔

مقامی لوگ کہتے ہیں کہ ان کے علاقے میں ابھی تو حالات ٹھیک ہیں لیکن ماضی کا تجربہ دیکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ اسے لیے ہر کوئی اپنی مدد آپ کے تحت اپنے وسائل کے مطابق مٹی یا کنکریٹ کے مورچے بنا رہا ہے۔

Image caption یہاں لوگوں نے زلزلے کے بعد پکے مکانات تعمیر کرنا چھوڑ دیا تھا لیکن کچے مکانات گولیوں سے بچانے کے لیے کافی نہیں

فوجی چوکیاں اور توپخانے ان کے گھروں کے بیچوں بیچ موجود ہیں۔ دوسرے علاقوں سے آنے والی کشیدگی کی خبروں سے انہیں بھی دھڑکا لگا رہتا ہے۔

زیادہ تر لوگ مٹی، پتھروں اور لکڑیوں کی مدد سے زیرِ زمین مورچے بنا رہے ہیں۔ زلزلے کے بعد یہ لوگ پکے مکانات نہیں بنا رہے اور ٹین کی چادروں سے بنے یہ مکانات انہیں گولی سے نہیں بچا سکتا۔

زیتون بی بی بتاتی ہیں کہ ماضی میں جب کشیدگی بڑھی تو ان کے گھر سے محض تین گز کے فاصلے پر گولے آ کر گرے تھے۔ اس وقت مٹی کے مکانات کے باعث کسی حد تک بچاؤ ہو گیا تھا تاہم اب زلزلے کے باعث لوگ کنکریٹ یا مٹی کے بھاری چھتیں بنانے سے گھبراتے ہیں۔

موجودہ تعمیرات میں زیادہ تر ٹین کی چادروں سے بنائے گئے مکانات ہیں جو فائرنگ کی صورت میں محفوظ نہیں ہیں۔

زیتون بی بی کہتی ہیں کہ مٹی اور لکڑیوں سے بنا یہ مورچہ سو فیصد حفاظت کی ضمانت نہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ دل کو تسلی دینے کے لیے ہیں سہی وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔

ایک جانب تھوڑے تھوڑے عرصے بعد آنے والے زلزلے کے جھٹکے مقامی آبادی کو قدرتی آفت کے خوف سے نکلنے نہیں دیتے تو دوسری جانب لائن آف کنٹرول کے اس پہاڑی علاقے پر بسنے والے لوگ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے باعث مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں