’اسلحہ، منشیات اور پیسہ، کراچی بدامنی کا ایندھن‘

سپریم کورٹ نے محکمہ کسٹم کو بھی کراچی میں امن و امان کی خراب صورتحال کا کا ذمے دار ٹھرایا ہے اور کہا ہے کہ اسلحہ، منشّیات کی اسمگلنگ اور پیسہ بدامنی کی آگ میں ایندھن کا کام کر رہے ہیں، یہ فراہمی روک دی جائے تو کراچی میں امن ہوجائے گا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل بینچ میں منگل کو کراچی امن امان مقدمے کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کسٹم حکام سے دریافت کیا کہ کراچی میں اسلحہ کہاں سے آتا ہے، جس پر کلیکٹر کسٹم نے بتایا کہ غیر قانونی اسلحہ سمندری راستے سے نہیں بلکہ زمینی راستہ سے آتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے ڈی جی رینجرز نے کہا تھا کہ غیر قانونی اسلحہ کنٹینروں کی مدد سے بندرگاہوں پر لایا جارہا ہے، جو بعد میں آگے جاتا ہے۔

عدالت نے کسٹم حکام سے دریافت کیا کہ اسلحے کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں اور کتنی کارروائیاں کی گئی ہیں؟ جس پر کسٹم حکام نے اعتراف کیا کہ انہیں کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

چیف کلیکٹر کسٹم نے عدالت کو بتایا کہ کراچی کی دونوں بندر گاہوں پر تین کلیکٹوریٹ ہیں جہاں سے اٹھارہ سو کنٹینر گذرتے ہیں، ان پر سولہ سو کے قریب ملازم کام کرتے ہیں اور ان میں سے پچہتر کے قریب لوگ ان کنٹینروں کی چیکینگ کرتے ہیں، جسٹس ایس خواجہ نے ان سے سوال کیا کہ کیا یہ پچہتر لوگ تمام کنٹینروں کی انسپیکشن کرسکتے ہیں؟

چیف کلیکٹر نے بتایا کہ تیس اسکینر لگے ہوئے ہیں جن کی بھی مدد لی جاتی ہے، ان سے چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اس بات کا تعین کیسے ہوتا کہ کونسا کنٹینر اسکینر سے جائے گا؟

چیف کلیکٹر ناصر منصور نے بتایا کہ بعض بندرگاہیں، ایکسپورٹرز، امپورٹرز اور ملک ایسے ہیں جن سے آنے والے کنٹینر اسکینر سے گذارے جاتے ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس کے بجائے مصنوعات کو دیکھناچاہیے کہ وہ کیا ہے؟

اس سے پہلے رینجرز نے عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی، جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ملزمان کا ٹرائیل ہونا چاہیے کیونکہ جب تک ملزمان کا ٹرائیل نہیں ہوگا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، اب نیا قانون تحفظ پاکستان بھی آچکا ہے، چھ ہزار سے زائد مقدمات دائر ہوئے ہیں ظاہر ہے اس میں سے کچھ رہا ہوجائیں گے لیکن یہ پراسیس کا حصہ ہے‘۔

چیف جسٹس نے دوبارہ سوال کیا کہ شہر میں اسلحہ کہاں سے آرہا ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل سندھ جاوید اقبال نے بتایا کہ رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کرنے کی مہم بھی چلائی گئی تھی، جس پر چیف جسٹس نے انہیں بتایا کہ وہ بے نتیجہ نکلی تھی، ایڈووکیٹ جنرل نے انہیں آگاہ کیا کہ اب باقاعدہ کارروائی کی جائےگی۔

کراچی پولیس چیف شاہد حیات نے عدالت کو بتایا کہ ٹارگٹڈ کارروائیوں کے بعد حیرت انگیز تبدیلی آئی ہے، صرف لیاری میں تھوڑا مسئلہ تھا جہاں جرائم پیشہ گروہ آپس میں لڑ رہے تھے اب وہاں بھی امن قائم کردیا ہے، چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ اب وہاں کوئی نو گو ایریا نہیں؟ پولیس چیف نے بتایا کہ پورے شہر میں کہیں بھی نو گو ایریا نہیں پولیس ہر جگہ جاسکتی ۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پانچ ہزار مقدمات دائر کیے گئے ہیں اور پانچ ہزار تین سو ملزم گرفتار ہوئے ہیں۔

عدالت میں مہاجر قومی موومنٹ آفاق گروپ کی جانب سے شہر میں نو گو ایریا کے بارے میں درخواست کی گئی ہے، تنظیم کے شعبے خواتین کی رہنما ردا فاطمہ نے بتایا کہ ان کے تیرہ سو سے زائد لوگ گھروں کو نہیں جاسکتے پولیس کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ نو گو ایریاز ختم کردیئے گئے ہیں، چیف جسٹس نے ان کی درخواست پر نوٹس جاری کرنے کا احکامات جاری کیے۔

چیف جسٹس نے بعد میں کراچی پولیس کے سربراہ شاہد حیات سے سوال کیا کہ ان کے گھروں کا کیا مسئلہ ہے؟ شاہد حیات کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات ہیں، حقیقی والے اپنے علاقوں میں جاتے ہیں تو مسئلہ ہوتا ہے اور یہ دونوں اطراف سے ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ وہ امن امان کی بحالی پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں سپریم کورٹ ان کے پیچھے ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ جاوید اقبال نے عدالت کو بتایا کہ صحافی ولی بابر کے قتل کیس کی سماعت سیکیورٹی وجوہات کے باعث کراچی کے بجائے کسی اور شہر منتقل کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں