پاک بھارت: ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کو بحال رکھنے پر اتفاق

Image caption دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ سال 2003 میں ہوا تھا

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیالکوٹ جموں ورکنگ باؤنڈری پر کئی دنوں سے جاری فائرنگ کے تبادلے بعد دونوں ممالک کے سرحدی محافظوں کے درمیان ملاقات میں جنگ بندی کے معاہدے کو بحال رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان رواں سال جنوری میں متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول یعنی ایل او سی پر کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا تاہم حالیہ دنوں میں جموں سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری پر بھی دو طرف فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

پاک بھارت ورکنگ باؤنڈری پر پھر کشیدگی

منگل کو پاکستان رینجرز اور بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورسز کے حکام کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں فائر بندی کو بحال رکھنے پر اتفاق کیا گیا تاہم اس میٹنگ کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے گیارہ مئی کے انتخابات میں فتح کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا اشارہ کیا تھا تاہم ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی بجائے کشمیر کے مسئلے پر تعلقات میں پہلے سے زیادہ تناؤ آیا ہے۔

گذشتہ ماہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی اپنے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں رہنماؤں نے امن بات چیت میں پیش رفت کے لیے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حملوں کو روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم اس ملاقات کے چند دنوں بعد ورکنگ باؤنڈری پر بھی فائرنگ میں شدت آ گئی تھی۔

جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں پر ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب مقیم عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان نومبر 2003 میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ اس کے بعد بھی دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں تاہم اس دونوں ملکوں کے فوجی ذرائع اسے کئی برس میں ہونے والی جنگ بندی کی شدید ترین خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں