سوات: ریشم کے کارخانے بند، پندرہ ہزار مزدور خاندان متاثر

Image caption سوات میں شدت پسندی اور تباہ کن سیلاب کی وجہ سے تین سو کے قریب کارخانے بند ہوچکے ہیں

پچیس سال تک وادی سوات میں ریشم کی فیکٹری میں ہنر مند کی حیثیت سے کام کرنے والے شیرین جان آج کل بے روزگار ہیں۔

ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ سوات میں زیادہ تر ریشم کے کارخانے بند پڑے ہیں اور سات بچوں کے والد اور گھر کا واحد کفیل ہونے کی وجہ سے وہ آج کل بیوی اور بچوں کا پیٹ پالنے کےلیے اینٹیں اور ریت اٹھاکر سخت محنت مزدوری کر رہے ہیں۔

’طالبان گئے تو قدرتی آفات نے گھر دیکھ لیا‘

شیرین جان کا کہنا ہے کہ بیس سال پہلے جب سوات میں حالات اچھے تھے اور ریشم کا کاروبار عروج پر تھا تو ان دنوں وہ ہر ماہ دس ہزار سے پندرہ ہزار روپے تک کما لیا کرتے تھے۔

’ آج کل میں سارا دن سخت محنت مزدوری کرتا ہوں اور بمشکل چار سو روپے کماتا ہوں اور بال بچے بھی زیادہ ہیں جبکہ میں ریشم کی فیکٹری میں اتنے پیسے ایک گھنٹے میں کما لیا کرتا تھا۔‘

وادیِ سوات میں اسّی کی دہائی کے دوران ریشم کا کپڑا تیار کرنے کے چار سو کے قریب چھوٹے بڑے یونٹ قائم تھے۔ مقامی سطح پر قائم ان فیکٹریوں میں ریشم سے کپڑا تیار کیا جاتا تھا جو ملک کے دیگر شہروں کو سپلائی کیا جاتا تھا۔ اس صنعت سے ہزاروں مزدور خاندانوں کا روزگار وابستہ تھا۔

تاہم علاقے میں تین سال تک جاری رہنے والی شدت پسندی اور 2010 کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے تین سو کے قریب کارخانے اب بند ہوچکے ہیں۔

سوات میں آج کل 90 کے قریب ریشم کے کارخانے کام کر رہے ہیں تاہم کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے باعث یہ بھی بندش کے قریب ہیں جس سے مزید چار ہزار کے لگ بھگ مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ ہے۔

سوات کے علاقے برابانڈئی سے تعلق رکھنے والے شمشیر علی نے ریشم کے کاروبار میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ وہ یہ کاروبار گذشتہ تین دہائیوں سے کررہے ہیں۔ ان کی فیکٹری میں جدید مشینیں بھی نصب ہیں جس سے کم وقت میں زیادہ مال تیار کیا جاتا ہے لیکن تجارتی سرگرمیاں نہ ہونے کے باعث وہ اپنی فیکٹری بند کر رہے ہیں۔

شمشیر علی کا کہنا ہے کہ پہلے تین سال تک سوات میں شدت پسندی رہی جس کی وجہ سے کاروبار تباہ ہوا پھر جب حالات کچھ بہتر ہوئے تو رہی سہی کسر سیلاب نے پوری کردی ۔انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے بالائی سوات میں زیادہ تر کارخانے بہہ گئے تھے جبکہ کئی ماہ تک راستے بند بھی تھے جس سے مالکان کو مارکیٹ تک کپڑا لے جانے میں بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔

ان کے بقول ’ آج کل سوات میں کارخانوں کی بندش کی واحد وجہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے جس سے بجلی سے چلنے والا ہر قسم کا کاروبار تقریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ دن میں تین چار گھنٹے سے زیادہ بجلی نہیں ہوتی تو ایسی حالت میں فیکٹری کیسے چل سکتی ہے۔

وادی سوات ریاست کے دور سے ٹیکس فری زون رہا ہے جہاں آج بھی سرمایہ کاروں سے کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ لیکن اب ان میں بعض سہولتیں واپس لے لی گئی ہیں جو سرمایہ کاروں کے مطابق ریشم کی صنعت کے زوال کا ایک سبب ہے۔

سوات میں سلک یونٹ اونرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری علی محمد خان کا کہنا ہے کہ پہلے سوات کے سرمایہ کاروں کو تمام قسم کے ٹیکسوں سے چھوٹ حاصل تھی اور باہر کے شہروں سے خام مال لانے پر بھی ان سے ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت بھی انہیں دھاگہ سستے داموں مل رہا تھا لیکن اب ان سے سیلز، ایکسائز اور دیگر ٹیکس لیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے انھیں پنجاب اور سندھ سے خام مال خریدنا انتہائی مہنگا پڑ رہا ہے۔

تاہم حکومت نے ریشم کی دم توڑتی ہوئی صنعت میں دوبارہ جان ڈالنے کےلیے حال ہی میں بحالی کے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے جس کے تحت بیمار صنعتوں کو خصوصی گرانٹ جاری کی گئی ہے جس سے وادی میں مشینوں کی آوازیں پھر سے گونجنے لگی ہیں۔

پاکستان میں چھوٹے اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی بحالی کےلیے سرگرم ادارے سمیڈا خیبر پختون خوا کے سربراہ جاوید اقبال خٹک کا کہنا ہے کہ سوات میں ریشم کی کارخانوں کی دوبارہ بحالی کےلیے مختلف منصوبوں کا آغاز کردیا گیا ہے اور توقع ہے کہ یہ صنعت پھر سے بہت جلد اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے گی۔

سوات میں امن کی بحالی کے بعد زندگی کا پہیہ اب چل پڑا ہے تاہم بیمار صنعتوں کی بحالی کےلیے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کی ضرورت ہے تاکہ شدت پسندی کے مارے ہوئے سوات کے عوام کے دکھوں کا کچھ حد تک مدوا کیا جاسکے۔

اسی بارے میں