’پانچ برسوں میں 2160 شدت پسند ڈرون حملے کا نشانہ بنے،

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران امریکی ڈرون حملوں میں ایک بھی عام شہری ہلاک نہیں ہوا
،تصویر کا کیپشن

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران امریکی ڈرون حملوں میں ایک بھی عام شہری ہلاک نہیں ہوا

پاکستان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ گُذشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں میں اب تک صرف 67 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جو کہ کُل ہلاکتوں کا تقریباً تین فیصد بنتا ہے۔

یہ بات وزارتِ دفاع کی جانب سے بدھ کو ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ڈرون حملوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتائی گئی ہے۔

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران امریکی ڈرون حملوں میں ایک بھی عام شہری ہلاک نہیں ہوا۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں 2008 سے 2013 کے دوران 317 ڈرون حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2227 رہی جن میں سے 2160 شدت پسند جبکہ 67 عام شہری تھے۔

سب سے زیادہ ڈرون حملے سنہ 2010 میں ہوئے جن کی تعداد 115 تھی جبکہ رواں سال کے دوران سب سے کم حملے ہوئے ہیں جن کی تعداد 14 ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان ڈرون حملوں کی شدید مخالفت کرتا رہا ہے اور حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے دورۂ امریکہ میں صدر براک اوباما سے ملاقات میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔

حال ہی میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں پر ایک خصوصی رپورٹ جاری کی تھی جس میں ان ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بعض حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

دوسری جانب سینیٹ کے اجلاس کے دوران وزارت داخلہ چوہدری نثار علی کی طرف سے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ گُزشتہ گیارہ سال کے دوران شدت پسندی کے واقعات میںبارہ ہزار سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

وزیر داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں ملک بھر میں ہونے والے بم دھاکوں اور خودکش حملوں میں چھبیس ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے ورثاء کو پانچ ارب چھالیس کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں۔

تحریری جواب کے مطابق اس عرصے کے دوران شدت پسندی کے واقعات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں خیبر پختون خوا میں ہوئی ہیں جو 4390 ہے جبکہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں 3851 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سبب سے بڑے صوبے پنجاب میں گُذشتہ 11 سال کے دوران شدت پسندی کے واقعات میں 1354 جب کہ صوبہ سندھ میں سب سے کم ہلاکتیں ہوئی ہیں جن کی تعداد 646 ہے۔

بلوچستان میں اس عرصے کے دوران شدت پسندی کے واقعات میں 1955 افراد لقمۂ اجل بنے جب کہ اسلام آباد میں اس عرصے کے دوران 208 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے تحریری جواب کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر سے 6149 شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

تاہم اس جواب میں یہ نہیں بتایا گیا کہ گرفتار ہونے والے کتنے شدت پسندوں کو عدالتوں کی طرف سے سزا ہوئی ہیں اور کتنے افراد عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیے گئے ہیں۔