’امریکی سفیر کو دکھائیں کہ نیٹو کا اسلحہ فروخت ہو رہا ہے‘

Image caption چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ وہ کوسٹ گارڈز، میری ٹائم سیکیورٹی فورسز، رینجرز اور پولیس کے ساتھ ایک لائحہ عمل تشکیل دیکر جمعرات کو عدالت کو آگاہ کریں کہ کس طرح اسلحے اور منشیات کی روک تھام کی جاسکتی ہے

کراچی میں امن و امان کی صورتحال کے بارے میں مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ایک بینج کے ممبر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ وہ پشاور کے باہر واقع علاقے کارخانو گئے تھے جہاں ان ہی ( نیٹو) کا اسلحہ فروخت ہو رہا ہے۔

انہوں نے ایف بی آئی آر کے چیئرمین کو مشورہ دیا کہ وہ امریکی سفیر کو وہاں لے کر جائیں اور دکھائیں۔ نیٹو کے کنٹینروں کے لاپتہ ہونے سے متعلق پاکستان میں امریکی سفیر نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کو ایک خط لکھا ہے جس میں امریکی سفیر نے واضح کیا ہے کہ نیٹو یا اتحادی افواج کے انیس ہزار کنیٹرز لاپتہ نہیں ہوئے ہیں اور اس حوالے سے اخبارات میں غلط خبریں شائع ہو رہی ہیں۔

سپریم کورٹ جمعرات کو یہ فیصلہ کرے گی کہ پاکستان میں امریکی سفیر کو خط تحریر کیا جائے یا نہیں۔

اس کے علاوہ کراچی میں امن امان کے بارے میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منشیات اور اسلحے کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کل تک لائحہ عمل پیش کریں۔

سپریم کورٹ کا بینج چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل ہے۔

عدالت کو رمضان بھٹی کمیشن کی رپورٹ پڑھ کر سنائی گئی جس میں یہ بتایا گیا کہ امریکی سفیر نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کو ایک خط لکھا ہے جس میں واضح کیا ہے کہ نیٹو یا اتحادی افواج کے انیس ہزار کنیٹرز لاپتہ نہیں ہوئے ہیں اور اس حوالے سے اخبارات میں غلط خبریں شائع ہو رہی ہیں۔

سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے صرف سفارتی اور کھانے پینے کی اشیا برآمد کی جاتی ہیں اسلحہ نہیں لایا جاتا۔

چیف جسٹس نے چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اس خط کا جواب دیا ہے، جس کا طارق باجوہ نے نفی میں جواب دیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ خود مختار ہو، آپ کو اس کا جواب دینا چاہیے تھا۔ ’اگر اخبارات کی خبر غلط تھی تو اس کی تردید وہاں بھیجی جانی چاہیے، چیئرمین سی بی آر کو کیوں لیٹر لکھا گیا؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور وزیرستان میں جو جدید اسلحہ آ رہا ہے وہ کہاں سے آ رہا ہے؟ ہر ادارہ کہہ رہا ہے کہ سمندری راستے سے آ رہا ہے۔

اس موقعے پر چیف جسٹس نے شعیب سڈل اور حافظ انیس کمیشن کی رپورٹوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان میں کہا گیا تھا کہ جدید اسلحہ کراچی کی بندرگاہوں سے داخل ہو رہا ہے۔

اٹارنی جنرل منیر ملک کا موقف تھا کہ اس طرح ہر بات پر لیٹر تحریر نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ کل کمیشن کی رپورٹیں دیکھی جائيں گی اور اس کے بعد لیٹر لکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اٹارنی جنرل نے نشاندہی کی کہ امریکی سفیر کے خط میں یہ لکھا ہے کہ کنٹینرز لاپتہ نہیں ہوئے تاہم ان میں موجود سامان کی کوئی بات نہیں کی گئی۔

اس سے پہلے کسٹم انٹلی جنس کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ سہراب گوٹھ اور یوسف گوٹھ میں ٹرکوں، بسوں اور کاروں کی مدد سے پشاور اور افغانستان سے اسلحہ اور منشیات لائی جاتی ہیں، جہاں سے بعد میں شہر کے مختلف علاقوں میں سپلائی ہوتی ہیں۔

حکام نے بتایا کہ سہراب گوٹھ میں زیادہ تر پشتون محسود اور افغان پناہ گزین آباد ہیں۔ کسٹم کے لیے ان علاقوں میں کارروائی کرنا دشوار ہوتا ہے۔ وہ منشیات اور اسلحے کے علاوہ لسانی اور فرقہ وارانہ جرائم ، بھتہ خوری اور اغوا کی وارداتوں میں بھی ملوث ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ وہ کوسٹ گارڈز، میری ٹائم سکیورٹی فورسز، رینجرز اور پولیس کے ساتھ ایک لائحہ عمل تشکیل دے کر جمعرات کو عدالت کو آگاہ کریں کہ کس طرح اسلحے اور منشیات کی روک تھام کی جاسکتی ہے کیونکہ بدامنی کے لیے اسی کا پیسہ استعمال ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں