’شمالی وزیرستان میں خالی مکان پر امریکی ڈرون حملہ‘

Image caption اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو میران شاہ میں ہونے والے ڈرون حملے میں ایک خالی مکان کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم دوسری جانب سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس ڈرون حملے میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پشاور سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق مقامی انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو میران شاہ بازار میں واقع ایک مکان پر ڈرون نے دو میزائل داغے۔

’پانچ برسوں میں 2160 شدت پسند ڈرون حملوں کا نشانہ بنے‘

’اگر پاکستان چاہے تو ڈرون حملے کل بند ہو سکتے ہیں‘

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مکان میں کوئی موجود نہیں تھا۔ ان کے بقول اس حملے میں صرف ایک گاڑی تباہ ہوئی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملہ میران شاہ کے مرکزی بازار میں ایک مکان پر ہوا جس پر ڈرون نے دو میزائل داغے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اس ڈرون حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے اپنے بیان میں کہا: ’ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت اورعلاقائی خود مختاری کےخلاف ہیں۔ ان میں بے گناہ شہری مارے جاتے ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات مرتب کررہے ہیں اور یہ حملے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچارہے ہیں۔

یہ ڈرون حملہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے دورہ امریکہ کے ٹھیک ایک ہفتے بعد ہوا جس کے دوران انہوں نے امریکی صدر باراک اوباما سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سے قبل 30 ستمبر کو میران شاہ میں ہی ڈرون حملہ ہوا تھا جس میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حکومت پاکستان حالیہ برسوں کے دوران ڈرون حملوں کی مخالفت کرتی رہی ہے اور اس کا موقف رہا ہے کہ یہ حملے ملک کی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور یہ کہ ان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ ہی کو وزارت دفاع نے سینیٹ کو بتایا تھا کہ پچھلے پانچ برسوں کے دوران ڈرون حملوں میں 67 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جو کہ ان حملوں میں ہونے والی مجموعی اموات کا محض تین فیصد ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق قبائلی علاقوں میں 2008 سے 2013 کے دوران کُل 317 ڈرون حملے ہوئے جن میں2227 لوگ ہلاک ہوئے اور اُن میں 2160 شدت پسند جبکہ 67 عام شہری تھے۔

اسی بارے میں