ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد پر نیا تنازع

Image caption پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج ہوتا رہا ہے

پاکستان کی وزرات دفاع کی طرف سے گذشتہ روز ایوان بالا یعنی سینیٹ میں قبائلی علاقوں میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کی تعداد اور اس میں مارے جانے افراد کے حوالے سے پیش کی گئی تازہ رپورٹ پر ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے رپورٹ میں شہریوں کی ہلاکتیں کم ظاہر کرنے پر کڑی تنقید کی گئی ہے ۔

وزرات دفاع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران فاٹا میں تین سو سترہ امریکی جاسوس طیاروں کے حملے کیے گئے جن میں 2160 شدت پسند اور 67 عام شہری ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ اس سال قبائلی علاقوں میں اب تک چودہ امریکی ڈرون حملے ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ سال یعنی دو ہزار بارہ میں یہ تعداد 45 پینتالیس رہی تھی۔ وزرات دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار گیارہ میں باسٹھ ڈرون حملے ہوئے جبکہ دو ہزار دس میں یہ تعداد سب سے زیادہ یعنی ایک سو پندرہ رہی۔

تاہم دوسری طرف قبائلی ذرائع اور انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات میں کہا گیا ہے کہ افغان سرحد سے متصل قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کا آغاز دو ہزار چار میں ہوا اور اب تک ان میں ہلاک ہونے والوں میں بائیس سو سے زیادہ شدت پسند، دو سو چھیاسی عام شہری اور دو سو ستّر نامعلوم افراد شامل ہیں۔

عمر دراز وزیر شمالی وزیرستان سے ایک غیر ملکی ریڈیو چینل کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ گزشتہ چار سال سے بحیثیت مقامی صحافی ڈرون حملوں کے اعداد وشمار اکٹھے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ایوان بالا میں جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں اس میں حملوں اور ہلاکتوں دونوں کی تعداد انتہائی کم بتائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس میں شک نہیں کہ ڈرون حملوں میں مارے جانے والے شدت پسندوں اور عام شہریوں کی مصدقہ تعداد معلوم کرنا انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ جائے وقوع تک پہنچنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ خطرے سے بھی خالی نہیں ہوتا۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات غلط رپورٹنگ بھی ہوتی ہے بالخصوص ہلاکتوں کے حوالے سے اکثر اوقات متضاد اطلاعات بھی آتی رہتی ہیں۔

شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے ممتاز تجزیہ نگار اور مصنف ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف طاقت کے استعمال میں ڈرون حملے ایک ایسا ہتھیار ہے جو سب زیادہ موثر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’وزرات دفاع کی رپورٹ میں جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں ان کے درست ہونے کا زیادہ امکان ہے کیونکہ ڈرون حملوں میں مارے جانے والے افراد کی مصدقہ تعداد کی معلومات یا تو حکومتی اداروں کو ہوتی ہیں یا عسکری تنظیموں کو۔‘

ان کے مطابق اگر اعداد وشمار حکومتی ادارے نے پیش کیے ہیں تو زیادہ امکان ہے کہ وہ درست ہوں۔

خیال رہے کہ وزیراعظم کے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران عالمی سطح پر ڈرون حملوں کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں آواز اٹھائی گئی اور انہیں بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چند دن پہلے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اسے ملنے والے نئے ثبوت سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ امریکہ نے ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان میں غیر قانونی طور پر شہریوں کو ہلاک کیا جس میں سے بعض جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔

اسی بارے میں