ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا منصوبہ مردہ نہیں: وزیرِ پیٹرولیم

Image caption بیالیس انچ قطر کی اس پائپ لائن کی کل لمبائی 2775 کلومیٹر ہے

پاکستان میں پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ایران سے گیس کی درآمد کے لیے پائپ لائن بچھانے میں غیر ملکی مالیاتی اداروں اور سازوسامان فراہم کرنے والی کمپنیوں نے تعاون سے انکار کر دیا ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان مشکلات کے باوجود اس منصوبے کو ’مردہ‘ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

ایران کے قدرتی وسائل کے وزیر نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ اس پائپ لائن کے لیے سرمایہ نہ ہونے کے باعث یہ منصوبہ اب ’ختم‘ ہو چکا ہے۔

پاکستانی وزیر پٹرولیم نے کہا کہ ایرانی حکومت نے انہیں سرکاری طور پر اس طرح کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران سے قدرتی گیس درآمد کرنے کے لیے بنایا گیا یہ منصوبہ، سرمایہ کاروں اور ٹھیکیداروں کی عدم دلچسپی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ایران کے ساتھ کاروبار کی وجہ سے اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خدشے کے باعث کوئی بین الاقوامی مالیاتی ادارہ اس منصوبے میں رقم لگانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تعمیراتی کمپنیاں کام کرنے کو تیار نہیں اور ضروری سازوسامان فروخت کرنے والے ادارے بھی اس منصوبے کے لیے سامان فراہم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔‘

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ان حالات کے باوجود حکومت پاکستان اس منصوبے کو مردہ تصور نہیں کرتی بلکہ اس میں سرمایہ کاری کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے ایرانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس منصوبے کے لیے فنڈز فراہم کرے اور اگر ایسا نہیں کر سکتی تو اس کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کے لیے ایک اجلاس میں شرکت کریں۔

’ہم اس منصوبے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ اپنے ترقیاتی فنڈز سے بھی رقم فراہم کر سکتے ہیں لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کو اس منصوبے کے بارے میں مثبت انداز میں آگے بڑھنا ہو گا۔‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’یہ باتیں آمنے سامنے بیٹھ کر ہی طے کی جا سکتی ہیں اس لیے ہماری خواہش ہے کہ ایرانی حکومت اس ملاقات کا جلد از جلد بندوبست کرے۔‘

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کے دنیا کے دیگر ممالک سے تعلقات کی نوعیت بدلتی رہی ہے لیکن وہ آج بھی ترکی کو گیس فروخت کر رہا ہے۔

شاہد خاقان عباسی کے مطابق ’پاکستان نے بھی اسی بنیاد پر یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر ترکی ایران سے گیس خرید سکتا ہے تو پڑوسی ملک ہونے کے ناطے ہم کیوں نہیں کر سکتے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کے لیے سات اعشاریہ چھ ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران کے جنوب میں فارس گیس فیلڈ کو بلوچستان اور پنجاب میں ملتان سے جوڑا جانا ہے۔

اس منصوبے کو ’امن پائپ لائن‘ کا نام دیا گیا ہے اور رواں برس مارچ میں پاکستان اور ایران کے صدور نے اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح بھی کیا تھا۔

تاہم امریکہ نے اس منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس منصوبے پر حقیقتاً کام آگے بڑھا تو پاکستان کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں