عقیدے کی بنیاد پر خاندان کے تیسرے فرد کا قتل

Image caption سنہ دو ہزار بارہ میں لاہور میں احمدیوں کے قبرستان کی بے حرمتی کی گئی۔

کراچی کے علاقے اورنگی میں فائرنگ کے واقعے میں ستر سالہ بشیر احمد کیانی ہلاک اور تین افراد زخمی ہوگئے ہیں، احمدی جماعت کا دعویٰ ہے کہ بشیر احمد کو عقیدے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ واقعہ جمعہ کی دوپہر کو پیش آیا ہے۔ اورنگی ٹاون تھانے کے ایس ایچ او احمد بٹ کا کہنا ہے کہ خیبر کالونی کی ایک گلی سے بشیر احمد گذر رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے انہیں روکا اور کچھ چھیننے کی کوشش کی اور مزاحمت پر انہیں گولی ماردی۔

پولیس کے مطابق جب لوگ جمع ہوئے تو مسلح افراد نے فائرنگ شروع کردی جس میں تین افراد زخمی ہوگئے، بعد میں بشیر احمد زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگئے۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے پولیس کا موقف مسترد کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ستر سالہ شخص کیسے مزاحمت کرسکتا ہے وہ جمعہ نماز کے لیے اپنی عبادت گاہ جا رہے تھے کہ انہیں نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق اس سے پہلے رواں سال ہی بشیر احمد کے داماد ظہور احمد کیانی اور بیٹے اعجاز احمد کو نشانہ بنایا گیا تھا، جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کے مطابق انہیں بھی عقیدے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

کراچی میں گزشتہ چار ماہ میں بشیر احمد سمیت احمدی برادری کے چھ افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے، رواں سال ہلاکتوں کا یہ سلسلہ 12 جولائی سے شروع ہوا تھا جو چوہدری سمیع نامی شخص کو ہلاک کیا گیا، ان ہلاکتوں کے واقعات کے مقدمے نامعلوم ملزمان کے خلاف دائر کیے جاتے ہیں۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کا کہنا ہے کہ پولیس کوئی تحقیقات ہی نہیں کرتی صرف مقدمہ درج کرکے فائیل بند کردیتی ہے۔ اس لیے وہ کیسے پیروی کرسکتے ہیں، انہیں تو معلوم نہیں کہ حملہ آور کون تھے لیکن یہ ذمہ داری تو پولیس کی ہے کہ انہیں تلاش کرے۔

اسی بارے میں