’تحریکِ طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود ڈرون حملے میں ہلاک‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو امریکی ڈرون حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہو گئے ہیں۔

طالبان کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کو شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں ڈرون طیاروں نے حکیم اللہ محسود کے زیرِ استعمال ایک گاڑی اور ایک مکان کو نشانہ بنایا اور ان حملوں میں حکیم اللہ محسود سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

حکومت کے اخلاص، اختیار پر شک ہے: طالبان

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے ایک سینیئر افسر کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون حملہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہوا اور جمعہ کی صبح حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

ذرون حملوں میں ایک گاڑی اور ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حکیم اللہ محسود ڈرون حملے میں نشانہ بننے والی گاڑی میں تھے یا مکان میں۔ امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے بارے میں اطلاع دینے پر پچاس کروڑ روپے انعام رکھا ہوا تھا۔

رائٹرز کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ذرائع نے حملے میں حکیم اللہ محسود کے محافظ اور ڈرائیور کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ تاہم ابھی تک پاکستانی حکومت کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اس سے پہلے بھی کئی بار حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی خبریں آ چکی ہیں اور متعدد بار انہوں نے ذرائع ابلاغ کو پیغامات بھیج کر ان کی تردید کی تھی۔ دو ہزار دس میں اطلاعات آئی تھیں کہ تحریک کی سربراہی کے حوالے سے ایک لڑائی میں انہیں ہلاک کر دیا گیا تھا مگر وہ غلط ثابت ہوئیں۔

حکیم اللہ محسود ایک ایسے وقت ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت کے ایک وفد نے سنیچر کو طالبان سے بات چیت کے لیے شمالی وزیرستان جانا تھا۔

پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس ڈرون حملے کی مذمت کی ہے اور ڈرون حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر وزیراعظم نواز شریف سے بات کی ہے۔

یہ ڈرون حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جو ایک دن پہلے وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ پاکستانی طالبان سے بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ جمعہ کو ہی تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے مذاکرات شروع ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک حکومت کی جانب سے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

سنہ دو ہزار چار میں جب طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود منظر عام آئے تو حکیم اللہ محسود ذوالفقار محسود کے نام سے ان کے ترجمان کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور بیت اللہ کی ہلاکت کے بعد انہیں تحریکِ طالبان پاکستان کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔

وہ تحریک طالبان کی قیادت سنبھالنے سے قبل کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں طالبان جنگجوؤں کی قیادت کر رہے تھے اور یہ حکیم اللہ محسود ہی تھے جنہوں نے دو ہزار سات میں دو سو پچاس پاکستانی فوجیوں کو یرغمال بنا کر حکومت کو دیوار سے لگا دیا تھا۔

طالبان کے نئے ممکنہ امیر

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو ایک مرتبہ پھر نئے امیر کی تلاش ہے۔ اس سال مئی میں تحریک کے نائب ولی الرحمان کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد خان سید عرف کمانڈر سجنا کو نائب مقرر کیا گیا ہے۔

ان کے بارے میں خیال ہے کہ حکیم اللہ کے مقابلے میں وہ قدرے سنجیدہ شخص ہیں۔ لیکن گزشتہ دنوں ایسی بھی اطلاعات تھیں کہ حکیم اللہ اپنے قریب ترین ساتھی لطیف محسود کو اپنا نائب مقرر کرنا چاہتے تھے۔ لیکن لطیف کی گزشتہ دنوں افغانستان میں امریکیوں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد یہ امکان ختم ہوچکا تھا۔

اسی طرح باجوڑ سے تعلق رکھنے والے مولوی فقیر بھی افغانستان میں گرفتار ہوچکے ہیں۔

کالعدم تحریک کے دیگر سرکردہ ناموں میں ایک نام سوات میں طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کا بھی ہے جنہیں ممکنہ نئے امیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وہ شمالی افغانستان میں کنڑ کے علاقوں میں روپوش ہیں۔ لیکن اگر انہیں چنا جاتا ہے تو وہ حکیم اللہ سے بھی ماہرین کی رائے میں زیادہ خطرناک رہنما ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس بابت طالبان میں مشاورت کا آغاز ہوچکا ہوگا اور ماضی کی طرح ہوسکتا ہے کہ حکیم اللہ کی ہلاکت اور نئی تقرری کا اعلان آگے چل کر بیک وقت کیا جائِے۔

اسی بارے میں