’کراچی میں لائسنس یافتہ اسلحے کی تصدیق کا حکم‘

Image caption عدالت نے مزید سماعت گیارہ نومبر تک ملتوی کردی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لائسنس یافتہ اسلحے کی بھی تصدیق اور توثیق کا حکم جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے موقع پر کسٹم حکام کو ہدایت کی کہ وہ تمام اسلحہ ڈیلرز کا تین سال کا ریکارڈ چیک کریں اور یہ معلوم کریں کہ اس عرصے میں کراچی کے اندر اور باہر کسے اور کتنا اسلحہ فروخت کیا گیا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ یہ مشق متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کی معاونت سے کی جائے اور اس کی کاپی آئی جی سندھ پولیس اور ڈی جی رینجرز کو فراہم کی جائے جو اس پر وہ مزید کارروائی کریں گے۔

سپریم کورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلحہ قوانین کے تحت لائسنس والا اسلحہ رکھنے والوں سے یہ بھی معلوم کیا جائے کہ اس لائسنس یافتہ اسلحے کا استعمال کب اور کہاں کیا گیا؟ اس کے ساتھ ان سے یہ تحریری حلف نامہ بھی لیا جائے کہ انہوں نے اس اسلحے کا غلط استعمال نہیں کیا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل کا موقف تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں 52 ہزار لائسنس جاری کیے گئے ہیں، پولیس اور رینجرز اگر گھر گھر جا کر ان کی تصدیق کرے گی تو کراچی میں جاری ٹارگٹڈ کارروائیاں متاثر ہوں گی۔

چیف جسٹس نے انہیں بتایا کہ اس میں وقت کی قید و بند نہیں، اس حوالے سے عدالت رپورٹ بھی طلب نہیں کرے گی لیکن یہ مشق ہونی چاہیے۔

اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے بھی عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ منشیات کے اڈوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

عدالت نے اینٹی نارکوٹکس فورس اے این ایف کو سات روز میں پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے بھی رپورٹ طلب کی ہے کہ گزشتہ ایک سال میں غیر قانونی طور پر رقومات کی بیرون ملک منتقلی کے کتنے مقدمات درج ہوئے ہیں۔

اٹارنی جنرل منیر ملک نے عدالت کو بتایا کہ سہراب گوٹھ اور یوسف گوٹھ کے علاوہ لیاری، کنواری کالونی، کٹی پہاڑی اور بنارس میں بھی منشیات کے اڈے ہیں، اب وہاں پولیس ، رینجرز اور کسٹم کی مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی جا رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے سوال کیا کہ اتنا غیر قانونی اسلحہ آگیا ہے، اسے کیسے نکالیں گے، ایڈووکیٹ جنرل نے انہیں بتایا کہ گھر گھر تلاش لی جائے گی اور کرفیو لگانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

کسٹم کے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ڈائریکٹر محمد خاور نے بتایا جو کنٹینر لاپتہ ہوئے اس میں اسلحہ نہیں تھا یا ہو سکتا ہے اس کو ظاہر نہ کیا گیا ہو اس لیے ممکن ہے کہ ان میں اسلحہ ہو۔

آئی ایس آئی کے وکیل راجہ ارشاد کا کہنا تھا کہ مئی 2011 کی رپورٹ کے مطابق کراچی سے تین کنٹینر کسٹم کی کلیئرنس کے بغیر نکلے تھے جو بعد میں کسی نجی گودام میں پائے گئے اور انٹیلی جنس اداروں کے مطابق ان میں اسلحہ تھا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ وہ یہ جو مشق کر رہے ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ کراچی میں یہ اسلحہ کہاں سے آیا؟ جو 19 ہزار کنٹینر افغانستان نہیں پہنچے بظاہر تو لگتا ہے کہ وہ یہاں پاکستان میں ہی فروخت ہوئے ہیں۔

عدالت نے مزید سماعت گیارہ نومبر تک ملتوی کردی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بتایا کہ اب یہ سماعت اسلام آباد میں ہوگی۔

اسی بارے میں