’طالبان کےنئےسربراہ کی تقرری میں کئی دن لگ سکتے ہیں‘

Image caption اس سے پہلے بھی کئی بار حکیم اللہ کی ہلاکت کی خبریں آ چکی ہیں جو بعد میں غلط ثابت ہوئی تھیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو امریکی ڈرون حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہوگئے ہیں۔ تحریک طالبان کے ترجمان اعظم طارق نے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ نئے سربراہ کی تقریری کے باقاعدہ اعلان میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

طالبان کے ایک سینیئر رہنما نے تصدیق کی ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں ڈرون طیاروں نے حکیم اللہ محسود کے زیرِ استعمال ایک گاڑی اور ایک مکان کو نشانہ بنایا اور ان حملوں میں حکیم اللہ محسود سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

نئے امیر کا تقرر

Image caption حکیم اللہ اپنے قریب ترین ساتھی لطیف محسود کو اپنا نائب مقرر کرنا چاہتے تھے جو افغانستان میں امریکیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔

تحریک طالبان کے ایک سرکردہ رہنما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تاحال کسی طالبان کمانڈر کو بھی تحریک طالبان پاکستان کا نیا سربراہ مقرر نہیں کیا گیا ہے اورتمام ’ذمہ داروں‘ سے رائے طلب کئی گئی ہے۔ نئے طالبان سربراہ کی تقرری میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان اعظم طارق نے نامعلوم مقام سے خبررساں اداروں سے بات کرتے ہوئے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹر اور اے پی کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان اعظم طارق نے کہا کہ طالبان اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ نئے سربراہ کی تقریری کے لیے مشاورت جاری ہے اوراس کے باقاعدہ اعلان میں کئی دن لگ سکتے ہیں

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے خبر دی ہے کہ سوات طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ اور خان سید المعروف سجنا اور عمر خالد خوراسانی میں سے کسی ایک کو تحریک طالبان کا سربراہ مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ اس سال مئی میں تحریک کے نائب ولی الرحمان کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد خان خان سید عرف کمانڈر سجنا کو نائب مقرر کیا گیا ہے۔

ان کے بارے میں خیال ہے کہ حکیم اللہ کے مقابلے میں وہ قدرے سنجیدہ شخص ہیں۔ لیکن گزشتہ دنوں ایسی بھی اطلاعات تھیں کہ حکیم اللہ اپنے قریب ترین ساتھی لطیف محسود کو اپنا نائب مقرر کرنا چاہتے تھے۔ لیکن لطیف کی گزشتہ دنوں افغانستان میں امریکیوں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد یہ امکان ختم ہوچکا تھا۔

اسی طرح باجوڑ سے تعلق رکھنے والے مولوی فقیر بھی افغانستان میں گرفتار ہوچکے ہیں۔

کالعدم تحریک کے دیگر سرکردہ ناموں میں ایک نام سوات میں طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کا بھی ہے جن کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔

وہ شمالی افغانستان میں کنڑ کے علاقوں میں روپوش ہیں۔ لیکن اگر انہیں چنا جاتا ہے تو ماہرین کے مطابق وہ حکیم اللہ سے بھی زیادہ خطرناک رہنما ثابت ہوسکتے ہیں۔

حکیم اللہ ہلاک

Image caption امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے بارے میں اطلاع دینے پر پچاس کروڑ روپے انعام رکھا ہوا تھا

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے ایک سینیئر افسر کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون حملہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہوا اور جمعہ کی صبح حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے بارے میں اطلاع دینے پر پچاس کروڑ روپے انعام رکھا ہوا تھا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حکیم اللہ محسود ڈرون حملے میں نشانہ بننے والی گاڑی میں تھے یا مکان میں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے باضابطہ طور پر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر یہ خبر درست ہے تو یہ طالبان کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کے محافظ اور ڈرائیور کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی۔

حکیم اللہ محسود ایک ایسے وقت ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں جب سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت کے ایک وفد نے سنیچر کو طالبان سے بات چیت کے لیے شمالی وزیرستان جانا تھا۔

پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس ڈرون حملے کی مذمت کی ہے اور ڈرون حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر وزیراعظم نواز شریف سے بات کی ہے۔

یہ ڈرون حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جو ایک دن پہلے وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ پاکستانی طالبان سے بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ جمعہ کو ہی تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے مذاکرات شروع ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک حکومت کی جانب سے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں انہیں بند ہونا چاہیے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ یہ ڈرون حملے فائدے کی بجائے نقصان دہ ہیں جن میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں اور انسانی حقوق پامال ہوتے ہیں۔

حکیم اللہ محسود کون تھے؟

Image caption 2007 میں پاکستان فوج کے خلاف حملوں کی وجہ سے ایک بےرحم شدت پسند کے طور پر ابھرے۔

پاکستانی طالبان کے لیڈر حکیم اللہ محسود پہلی مرتبہ 2007 میں پاکستان فوج کے خلاف حملوں کی وجہ سے ایک بے رحم شدت پسند کے طور پر ابھرے۔

اس وقت تک وہ طالبان کے کئی کمانڈروں میں سے ایک تھے جنہوں نے ہزاروں پاکستانیوں کو ہلاک کیاے۔

2009 میں امریکی ڈرون حملے میں بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد حکیم اللہ محسود تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بنے۔

امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے سر کی قمیت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔ پاکستان نے بھی حکیم اللہ کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی۔

کئی مرتبہ حکیم اللہ محسود کے مرنے کی خبر آئی لیکن ایسی تمام رپورٹیں غلط ثابت ہوئیں۔ حال ہی ان کے نائب ولی الرحمن بھی ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

بی بی سی نیوز کے احمد ولی مجیب جب حکیم اللہ محسود قبائلی علاقوں میں ملے تو انہیں بہت صحت مند اور پرسکون پایا۔

احمد ولی مجیب کا کہنا ہے کہ ان کی حکیم اللہ محسود سے ملاقات کے وقت ڈرون طیارے ان کے سروں پر پرواز کر رہے تھے۔ ایک دفعہ تو ایک ڈرون بہت نیچے آگیا جس سے وہ انتہائی خوفزدہ ہوگیا لیکن حکیم اللہ محسود پر سکون رہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کےامیر حکیم اللہ محسود نے کوئی باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کی ہے اور ان کی عمر چھتیس سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

Image caption قبائلی علاقوں میں بی بی سی نیوز کے ساتھ اپنے آخری انٹرویو میں حکیم اللہ محسود بہت صحت مند اور پرسکون تھے۔

حکیم اللہ محسود کے علاوہ وہ ذوالفقار محسود کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ تاہم قبائلی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان کا اصل نام جمشید ہے۔ حکیم اللہ محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کےگاؤں کوٹکی سے بتایا جاتا ہے۔ وہ محسود قبیلے کے ذیلی شاخ آشینگی سے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ حکیم اللہ محسود نے کوئی باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ البتہ انہوں نے صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو کے ایک گاؤں شاہو میں ایک مدرسے سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی جہاں وہ بیت اللہ محسود کہ ہمراہ پڑھے تھے۔ تاہم دینی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے ہی دونوں طالبان کمانڈروں نے مدرسہ چھوڑ دیا تھا۔

حکومت کے خلاف جب کوئی بڑا واقع ہوا ہے تو اس میں طالبان کی قیادت حکیم اللہ ہی کرتے رہے ہیں۔

سن دوہزار چار میں جب بیت اللہ محسود منظر عام آئے تو حکیم اللہ محسود ذوالفقار محسود کے نام سے ان کے ترجمان کی حثیت سے کام کرتے تھے۔ وہ تحریک طالبان پاکستان میں جنگی کمانڈر کےطور پر زیادہ جانے جاتے تھے۔

تحریک کے امیر مقرر ہونے سے قبل وہ تین قبائلی ایجنسیوں خیبر، اورکزئی اور کرم ایجنسی کے کمانڈر تھے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ خیبر ایجنسی میں نیٹو افواج کو سامان لے جانے والی گاڑیوں پر حملے کرتے رہے ہیں جب کہ کرم ایجنسی میں شعیہ سنی فسادات میں بھی ملوث رہے۔

انہوں نے دو شادیاں کیں۔ دوسری شادی انہوں نے دو ہزار نو میں اورکزئی ایجنسی کے ماموں زئی قبیلے میں کی۔

وہ ذرائع ابلاغ کو تصویروں اور فلموں کے ساتھ انٹرویو دینے کے شوقین بتائے جاتے ہیں جب کہ بیت اللہ میڈیا میں اپنا چہرہ دکھانے سے گریز کرتے تھے۔ ان کے پشاور اور قبائلی علاقوں کے صحافیوں کے ساتھ اچھے مراسم بھی تھے۔

حکیم اللہ محسود کا آخری انٹرویو

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اسی بارے میں