’امریکی غلاموں سے مذاکرات نہیں کیے جاسکتے‘

Image caption عصمت اللہ شاہین کو نگراں سربراہ مقرر کیا گیا ہے

تحریک طالبان پاکستان نے عصمت اللہ شاہین کو کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا نگراں سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پاکستان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

طالبان کے مرکزی ترجمان نے پیر کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ تنظیم کے سرکردہ ارکان کے ایک اجلاس میں عصمت اللہ شاہین کو نگراں سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ آئندہ چند دنوں میں تنظیم کے مستقل سربراہ کا اعلان کر دیا جائے گا۔

حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان کی طرف سے جاری ہونے والے پہلے بیان میں انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی اور ان کی موت کا بھرپور انداز میں انتقام لینے کی دھمکی دی گئی۔ بیان میں حکیم اللہ محسود کے قتل کا ذمہ دار ’مرتد اور ناپاک فوج‘ اور امریکہ کو قرار دیا گیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس بیان میں حکومت سے بات چیت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی غلاموں سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔‘ بیان میں میڈیا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

طالبان کے اس بیان میں حکیم اللہ محسود کی موت کا ذمہ دار پاکستان کی فوج اور امریکہ کو قرار دیا گیا۔ پاکستان فوج پر الزام لگایا گیا کہ اس نے امریکہ سے پانچ کروڑ ڈالر بٹورے ہیں۔ بیان میں فوج کے بارے میں انتہائی سخت زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے سر کی قیمت پانچ کروڑ ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔

طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے میڈیا کی ان خبروں کی بھی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان بحران کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کسی بحران کا شکار نہیں ہے اور نئے امیر کی تقرری کے لیے شوریٰ اگلے چند دنوں میں متفقہ فیصلہ کا اعلان کرے گی۔

پاکستان کے ذرائع ابلاغ کی حکیم اللہ محسود کے جانشین مقرر کرنے کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ تحریک طالبان کسی قسم کی جمہوری جماعت نہیں ہے کہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کر کے تحریک کا نئے سربراہ مقرر کرے۔

اسی بارے میں