حکومت کا امن مذاکرات پر اصرار، طالبان کا انکار

Image caption نواز شریف نے بہاولپور میں فوجی مشقوں کا معائنہ کیا

وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے پیر کو کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ حکومت پاکستان امن قائم کرنے کے لیے کل جماعتی کانفرنس کے فیصلے کی روشنی میں مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے گی جبکہ اس سے قبل کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ایک انتہائی سخت بیان میں حکومت پاکستان کو امریکی غلام قرار دیتے ہوئے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

تنظیم نے اپنے ایک بیان پر پاکستان فوج کے خلاف بڑے سخت الفاظ استعمال کیے اور فوج کو ’مرتد اور ناپاک‘ تک کہا۔

دوسری طرف خیبر پختونخوا اسمبلی نے ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بیس نومبر تک نیٹو سپلائی بند کریں بصورتِ دیگر صوبائی حکومت خود اپنا لائحہ عمل اختیار کرے گی۔

مذاکراتی عمل آگے بڑھائیں گے: نواز شریف

Image caption نواز شریف کے ہمراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی فوجی مشقوں میں موجود تھے

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ نو ستمبر کو شدت پسندی کے بارے میں کل جماعتی کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں کا احترام کیا جائے گا اور امن کے لیے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔

وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ مذاکرات کے عمل کو پٹری سے اُترنے نہیں دیا جائے گا اور اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل بھی جاری رہے گا۔

نواز شریف کے وفاقی کابینہ کے سامنے بیان، اور نہ ہی چوہدری نثار کے قومی اسمبلی میں خطاب میں طالبان کی طرف سے پاکستان کی فوج کو ’مرتد اور ناپاک‘ کہنے پر کچھ کہا گیا۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے افسوسناک اور قابل مذمت سلسلے کے جاری رہنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مستقل طور پر شدت پسندی کے خاتمے اور علاقے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کے نقطۂ نظر کو سمجھا ہی نہیں گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی پوری سیاسی اور عسکری قیادت سمیت عوام، سول سوسائٹی شدت پسندی کو بامقصد بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے شدت پسندی کی جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور پاکستان کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہے۔ نواز شریف نے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان کی قیادت کو ملک کو درپیش مسائل کو اپنی حکمت عملی کے مطابق حل کرنے دیا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومت اور تحریک طالبان کے درمیان رابطے قائم ہوچکے تھے اور ان حالات میں ڈرون حملے سے مذاکرات اور قیام امن کے لیے حکومتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت جس عمل کا آغاز کرچکی ہے اُس کے ساتھ تعاون نہیں کیا جاسکتا تو کم از کم اسے نقصان تو نہ پہنچایا جائے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کابینہ کو ڈرون حملوں سے متعلق پیدا ہونے والی صورت حال سے متعلق کابینہ کو آگاہ کیا۔

نیٹو سپلائی بیس نومبر تک بند کریں

Image caption نیٹو سپلائی بند کرنے کا مطالبہ عمران خان بھی کر چکے ہیں

خیبر پختونخوا اسمبلی نے ایک متفقہ قرار داد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 20 نومبر تک امریکی جاسوس طیارے روکنے اور نیٹو سپلائی بند کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں وگرنہ صوبائی حکومت خود اپنا لائحہ عمل اختیار کرے گی ۔

صوبائی اسمبلی کا یہ اجلاس عمران خان کے اس بیان کے بعد طلب کیا گیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ نیٹو سپلائی بند کریں گے چاہے اس کے لیے انھیں خیبر پختونخو حکومت کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

اسمبلی کا اجلاس پونے چار گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا اور ان پونے چار گھنٹوں میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین اس قرار داد کے متن پر بحث کرتے رہے کہ قرار داد میں کیا ہونا چاہیے۔ اراکین اسمبلی جب ایوان میں آئے تو صرف پانچ منٹ میں یہ قرار داد متفقہ طور پر تالیوں کی گونج میں منظور کر لی گئی۔

قرار داد میں وزیر اعظم پاکستان سے کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کرکے ڈرون حملے روکنے اور نیٹو سپلائی بند کرنے کے لیے تجاویز طلب کی جائیں۔

سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر نے اس قرار داد کے حق میں اراکین سے ہاں کہنے کو کہا تو سب نے اس کی حمایت میں ہاں کہی اور اس کے خلاف کسی نے کچھ بھی نہیں کہا ۔

شمالی وزیرستان ایجنسی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کو وفاقی حکومت نے امریکہ کی جانب سے پاکستان حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کو ناکام کرنے کی سازش قرار دیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا تھا کہ وہ نیٹو افواج کو سامان کی ترسیل روکیں گے چاہے اس کے لیے انھیں صوبائی حکومت کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قرار داد کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی حکومت یہ ذمہ داری وفاقی حکومت پر ڈالنا چاہتی ہے لیکن آخر میں کچھ ہوگا نہیں۔ یہ صرف بیانات دیے جا رہے ہیں اس سے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ اگر یہ اتنے ہی اس کے خلاف ہیں تو یو ایس ایڈ اور دیگر نیٹو ممالک کے جو 34 ارب روپے کے منصوبے یہاں جاری ہیں وہ کیوں بند نہیں کراتے۔

صوبائی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے بند کمرے میں اجلاس کے دوران کیا فیصلے ہوئے یہ تو معلوم نہیں ہو سکا، لیکن تحریک انصاف کے قائدین نے نیٹو سپلائی بند کرنے کا جو دعویٰ کیا تھا اب اسے وفاقی حکومت کے کندھوں پر ڈال دیا ہے ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قراردادیں پہلے بھی قانون ساز اسمبلیاں منظور کرچکی ہیں اور نیٹو افواج کو ترسیل بھی روکی گئی تھی۔ نیٹو افواج کی ترسیل تو چند روز بعد پھر جاری کر دی گئی تھی لیکن حکومت کے بیانات کے باوجود ڈرون حملے اب بھی جاری ہیں۔

عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں امریکہ کو صرف لاجسٹک سپورٹ دی گئی تھی جو اب بڑھ کر ڈرون حملوں تک پہنچ چکی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنا سب سے بڑی غلطی تھی اور جس کا خمیازہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اپنے امریکہ کے دورے کے دوران امریکی انتظامیہ سے یہ معاملہ اُٹھانا چاہیے تھا کہ جب تک پاکستان تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے اُس وقت تک کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوگا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ پہلے بھی حکیم اللہ محسود کو نشانہ بنا سکتا تھا لیکن عین اُس وقت اُنہیں ہلاک کیا گیا جب اُنہوں نے پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کونسی قوت پاکستان میں امن نہیں چاہتی۔

تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کو امریکہ انتظامیہ سے وعدہ لینا ہوگا کہ وہ مذاکرات کے دوران کوئی ڈرون حملہ نہیں کرے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت ڈرون حملے نہ روکنے کی صورت میں 20 نومبر کو نیٹو فورسز کی سپلائی روکنے سے متعلق فیصلہ کرے گی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس پانچ نومبر کو ہوگا۔

امریکی غلاموں سے مذاکرات نہیں: طالبان

Image caption عصمت اللہ شاہین کو نگراں سربراہ مقرر کیا گیا ہے

تحریک طالبان پاکستان نے عصمت اللہ شاہین کو کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا نگراں سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پاکستان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

طالبان کے مرکزی ترجمان نے پیر کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ تنظیم کے سرکردہ ارکان کے ایک اجلاس میں عصمت اللہ شاہین کو نگراں سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ آئندہ چند دنوں میں تنظیم کے مستقل سربراہ کا اعلان کر دیا جائے گا۔

حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان کی طرف سے جاری ہونے والے پہلے بیان میں انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی اور ان کی موت کا بھرپور انداز میں انتقام لینے کی دھمکی دی گئی۔ بیان میں حکیم اللہ محسود کے قتل کا ذمہ دار ’مرتد اور ناپاک فوج‘ اور امریکہ کو قرار دیا گیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس بیان میں حکومت سے بات چیت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی غلاموں سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔‘ بیان میں میڈیا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

طالبان کے اس بیان میں حکیم اللہ محسود کی موت کا ذمہ دار پاکستان کی فوج اور امریکہ کو قرار دیا گیا۔ پاکستان فوج پر الزام لگایا گیا کہ اس نے امریکہ سے پانچ کروڑ ڈالر بٹورے ہیں۔ بیان میں فوج کے بارے میں انتہائی سخت زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے سر کی قیمت پانچ کروڑ ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔

طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے میڈیا کی ان خبروں کی بھی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان بحران کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کسی بحران کا شکار نہیں ہے اور نئے امیر کی تقرری کے لیے شوریٰ اگلے چند دنوں میں متفقہ فیصلہ کا اعلان کرے گی۔

پاکستان کے ذرائع ابلاغ کی حکیم اللہ محسود کے جانشین مقرر کرنے کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ تحریک طالبان کسی قسم کی جمہوری جماعت نہیں ہے کہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کر کے تحریک کا نئے سربراہ مقرر کرے۔