’قاتلوں اور شہیدوں کو ایک ہی صف میں کھڑا نہیں کرنا چاہیے‘

پاکستان کی قومی اسمبلی
Image caption قومی اسمبلی کا موجودہ اجلاس پیر سے ڈرون حملے سے پیدا ہونے والی صورت حال پر بحث کر رہا ہے

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر قومی اسمبلی میں بحث کے دوران ایوان واضح طور پر منقسم نظر آ رہا ہے اور منگل کو حزب اختلاف کے بعض ارکان نے شدت پسندوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار اور حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ڈرون حملوں سے متعلق اگر متفقہ قرارداد منظور کی گئی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایوان طالبان کے موقف کی توثیق کر رہا ہے۔

Image caption پاکستان کی فوج کے جنرل ثنا اللہ نیازی کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی

اُنہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اس سے پہلے جو ڈرون حملوں سے متعلق قراردادیں منظور ہوئی تھیں اُن کا کیا بنا۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اگر حالیہ ڈرون حملوں سے متعلق قرارداد منظور کی گئی تو پھر ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے حملے سے متعلق بھی مذمتی قرارداد پیش کی جائے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے سے متعلق متفقہ قرارداد لانے سے ایوان منقسم ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ قرارداد پاس کرنے سے پہلے اُن چالیس ہزار افراد کے خاندانوں کے جذبات کو بھی سامنے رکھا جائے جنہیں طالبان کے مختلف گروپوں نے ہلاک کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ قاتلوں اور شہیدوں کو ایک ہی صف میں نہیں کھڑا کرنا چاہیے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا اختیار دیا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ ابھی تک حکومت کی طرف سے اس معاملے پر اُس طرح سنجیدگی کا اظہار نہیں کیا جا رہا جس طرح کی توقع تھی۔

جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن نے کہا کہ افغانستان میں موجود نیٹو کی سپلائی سے متعلق حکومت از سر نو پالیسی مرتب کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اُنہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو جاری رکھا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو امریکی ڈرون حملوں سے متعلق سخت موقف اپنانا چاہیے اور اس ضمن میں حکومت پارلیمانی لیڈروں سے مشاورت کرکے حکمت عملی بنائے ۔

Image caption تحریک طالبان نے چرچ پر حملے کو شرعی طور پر جائز قرار دیا تھا

اس کے علاوہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پنجاب میں چونکہ ڈرون حملے نہیں ہو رہے اس لیے وہاں کے لوگوں کو شاید ان ڈرون حملوں کی شدت کا اُتنا احساس نہیں ہوگا جتنا قبائلی علاقوں کے لوگوں کا ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں سے متعلق قرارداد لانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ محتلف لیڈروں کی طرف سے پارلیمنٹ ہاؤس میں کی جانے والی تقاریر عوام کو مطمئن نہیں کر سکتیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا کی حکومت نے نیٹو کی سپلائی روکنے سے متعلق فیصلے پر عمل درآمد کو محرم الحرام کی وجہ سے روک دیا گیا ہے اور اس بارے میں بیس نومبر کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل قومی اسمبلی میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈرون حملوں اور نیٹو کی سپلائی روکنے سے متعلق متفقہ قرار داد لانے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں میں پاکستان تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی فوری طور پر نیٹو کی سپلائی بند کرنے پر اصرار کر رہی تھیں ۔

اسی بارے میں