شکیل آفریدی کی سماعت ستائیس نومبر کو

Image caption شکیل آفریدی کو امریکی ہیرو قرار دیتے ہیں

فاٹا ٹریبیونل نے آج ڈاکٹر شکیل آفریدی کے اپیل کی سماعت میں خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ اور وکیل استغاثہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے ستائیس نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے ۔

شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹریبیونل نے خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ سے شکیل آفریدی کے مقدمے کا مکمل ریکارڈ گزشتہ سماعت میں طلب کیا تھا جو اب تک فراہم نہیں کیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ٹریبیونل کے ارکان نے نوٹس میں کہا ہے کہ آئندہ سماعت سے پہلے تمام ریکارڈ فاٹا ٹریبیونل کو فراہم کر دیا جائے ۔

شکیل آفریدی پر یہ الزام عائد تھا کہ انھوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش یا ان کی نشاندہی کے لیے امریکہ کے لیے ایبٹ آباد میں ویکسین دینے کے لیے ایک فرضی مہم شروع کی تھی۔

شکیل آفریدی کو گزشتہ سال اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی نے شدت پسند تنظیموں کے ساتھ روابط کے الزام میں تینتیس سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف شکیل آفریدی کے وکلا نے کمشنر پشاور کی عدالت میں اپیل کی تھی۔ کمشنر نے اگست کے مہینے میں پولیٹکل ایجنٹ سے دوبارہ مقدمہ سننے کے لیے کہا تھا جس میں صرف بحث ہوگی۔

سمیع اللہ آفریدی کے مطابق کمشنر پشاور کے فیصلے سے وہ مطمئن نہیں تھے کیونکہ انھوں نے پولیٹکل ایجنٹ کو مقدمے کی سماعت کے لیے صرف بحث کی اجازت دی تھی اور ضمانت پر قد غن لگائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ کمشنر پشاور کے فیصلے کے خلاف انھوں نے فاٹا ٹریبیونل میں درخواست دی تھی جس کی سماعت اب ستائیس نومبر کو ہوگی۔

یہ ٹریبیونل تین اراکین پر مشتمل ہے جس کے چیئرمین شاو ولی خان ہیں جبکہ ان کے ساتھ دیگر اراکین میں ریٹائرڈ کمشنر پشاور اکبر خان اور پیر فدا شامل ہیں۔ یہ ٹریبیونل قبائلی علاقوں میں رائج ایف سی آر کے قانون کے لیے اپیل کا ایک بڑا ادارہ سمجھا جاتا ہے جہاں ایف سی ار کے تحت سنائی گئی سزاؤں کے خلاف آخری اپیل کی جا سکتی ہے ۔

Image caption شکیل آفریدی کو امریکی ہیرو قرار دیتے ہیں

سمیع اللہ آفریدی کے مطابق فاٹا ٹریبیونل سابق دورِ حکومت میں ایف سی آر کے قوانین میں ترامیم کرکے قائم کیا گیا تھا ۔ اس ٹریبیونل میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو مکمل مقدمے کی سماعت اور انھیں تمام حقوق دینے کے لیے درخواست دی گئی ہے۔ سمیع اللہ آفریدی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ مقدمے کی دوبارہ سماعت ہو جس میں پولیٹکل ایجنٹ بحیثیت سیشن جج دوبارہ سنے ، اگر کوئی گواہ ہیں تو دوبارہ پیش کیے جائیں اور ڈاکٹر شکیل آفریدی کو اپنے دفاع کے لیے وکیل کی اجازت ہونی چاہیے ، مقدمے کی سماعت جیل کے اندر ہو تاکہ شکیل آفریدی کی موجودگی ضروری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس کا مقصد صرف یہی تھا کہ کمشنر کے فیصلے میں جو ابہام پایا جاتا تھا اسے دور کیا جائے اور شفاف ٹرائل منعقد ہوں جس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو اپنے دفاع کا پورا حق ملنا چاہیے۔

اسی بارے میں