’ پاکستانی طالبان کے نئے امیر کا انتخاب دو دن میں‘

Image caption حکیم اللہ محسود ڈانڈے درپہ خیل میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک کے نئےا میر کے انتخاب کے لیے طالبان رہنماؤں کا مشاورتی عمل جاری ہے اور آئندہ دو روز میں باقاعدہ نئے امیر کا انتخاب کر لیا جائےگا۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے طالبان رہنما نے ان تمام خبروں کی تردید کی جن میں کہا جا رہا ہے کہ طالبان کے مابین قیادت پر رسہ کشی جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب پورے ملک سے طالبان شوریٰ کے ارکان پہنچ چکے ہیں اور بہت جلد نئے امیر کے انتخاب کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

طالبان کی شوریٰ بیس سے پچیس ارکان پر مشتمل ہے اور طالبان کے تمام گروپوں کے نمائندے اس کا حصہ ہیں۔

طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ طالبان کی قیادت کے لیے مختلف ناموں پر صلاح و مشورہ جاری ہے اور شوریٰ کا فیصلہ حتمی ہوگا اور تمام حلقے اس کو قبول کریں گے۔

Image caption نئے امیر کے انتخاب تک عصمت اللہ شاہین کو طالبان کا قائم مقام امیر مقرر کیا گیا ہے

نامہ نگار احمد ولی مجیب کے مطابق مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس وقت طالبان کی شوریٰ میں جن پانچ افراد کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں مولوی فضل اللہ، خان سید سجنا، شیخ خالد حقانی، عمر خالد خراسانی اور حافظ سعید شامل ہیں۔

ان میں سے مولوی فضل اللہ سواتی طالبان کے امیر ہیں، خان سید سجنا جنوبی وزیرستان میں طالبان کے قائد ہیں جبکہ شیخ خالد حقانی کا تعلق ضلع صوابی سے ہے اور وہ طالبان کی شوریٰ کے سابق امیر رہ چکے ہیں۔

اس کے علاوہ عمر خالد خراسانی مہمند ایجنسی کے طالبان جب کہ حافظ سعید اورکزئی ایجنسی کے طالبان کے امیر ہیں۔

طالبان رہنما کے مطابق حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکیم اللہ محسود کے قتل کا منصوبہ نواز اوباما ملاقات کے دوران بنا۔

طالبان راہنما نے میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ میڈیا یک طرفہ اور بلاتحقیق خبریں چلا رہا ہے اور بقول ان کے طالبان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں