پاکستانی شدت پسندوں کی نئی تعریف

Image caption وزیر اعظم نے ریاستِ پاکستان کے خلاف برسرِپیکار لوگوں کو ’معاشرے کےگمراہ اور ذہنی خلفشار کا شکار‘ افراد قرار دیا

امریکہ پر نائن الیون حملوں کے بعد جب اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے افغانستان پر حملے کا ارادہ کیا تو اس سے قبل وکلا کی ٹیم سر جوڑ کر بیٹھی۔

اس ٹیم کا مل کر بیٹھنے کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان سے القاعدہ اور طالبان کے جن جنگجوؤں کو حراست میں لیا جائے ان کے لیے کیا لفظ استعمال ہو کہ ان پر عالمی قوانین لاگو نہ ہوں۔

ستمبر گیارہ کے حملوں کے بعد امریکی وکلا کی ٹیم نے Enemy Combatant یعنی متحارب دشمن کا لفظ تخلیق کیا۔ یہ لفظ القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے لیے استعمال کیا جانے لگا جن کو امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حراست میں لیا گیا ہو۔

متحارب دشمن وہ شخص ہے جسے امریکہ غیر قانونی جنگجو تصور کرے۔ ان غیر قانونی جنگجوؤں کو جنگی قیدی کا درجہ نہیں ملتا اور اسی لیے ان پر جنیوا کنونشن بھی لاگو نہیں ہوتا۔

دوسری طرف پاکستان میں ریاست کے خلاف برسرِ پیکار گروہوں کا نام لینے سے ہمارے سیاسی رہنماؤں کے پر جلتے ہیں۔

حال ہی میں ڈرون حملے میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد وزیرِ اعظم پاکستان نے ان ’گروہوں‘ کو متعارف کرانے کے لیے ایک نئی عبارت دریافت کی۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنی اس نئی تخلیق سے پردہ اٹھانے کے لیے بہاولپور میں فوجی مشقوں ’عزمِ نو‘ کی تقریب کا انتخاب کیا۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف برسرِپیکار لوگوں کو ’معاشرے کے گمراہ اور ذہنی خلفشار کا شکار‘ افراد قرار دیا۔

ویسے موقعے کی مناسبت سے درست بھی تھا کیونکہ ممبئی حملوں کے بعد صحافیوں کو دی گئی ’سکیورٹی‘ بریفنگ میں سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے تحریکِ طالبان پاکستان کے اس وقت کے رہنما بیت اللہ محسود کو محب وطن پاکستانی قرار دیا تھا۔

اب یہ تو وزیر اعظم ہی بتا سکتے ہیں کہ ان شدت پسندوں کو شدت پسند نہیں بلکہ ’گمراہ اور ذہنی خلفشار کا شکار افراد‘ قرار دینے کے لیے وکلا کی ٹیم بیٹھی، کچن کابینہ بیٹھی یا پھر وزیراعظم کی تقریر لکھنے والے نے لکھ دیا اور وزیراعظم صاحب کو پسند آ گیا؟

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ وابستہ تنظیموں کی تعداد 37 ہے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق یہ تعداد 50 سے بھی زیادہ ہے اور ان میں وہ تنظیمیں بھی شامل ہیں جو فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہیں۔

ان میں سے تقریباً تمام ہی تنظیموں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت حکومتِ پاکستان نے کالعدم قرار دیا ہوا ہے۔

لیکن انسداد دہشت گردی ایکٹ میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جس میں کسی بھی تنظیم کو اس لیے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس میں ’گمراہ اور ذہنی خلفشار کا شکار افراد‘ شامل ہیں۔

تو کیا اب ان تنظیموں کو جن میں ’گمراہ اور ذہنی خلفشار کا شکار افراد‘ موجود ہیں، کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا اور یہ تنظیمیں temporary insanity یعنی عارضی پاگل پن کی دلیل کو استعمال کر کے کالعدمی سے بچ سکیں گی؟

اسی بارے میں