مشرف ضمانت کے بعد رہا، سب جیل کا نوٹیفیکیشن واپس

تمام زیرِ التوا مقدمات میں ضمانت منظور ہونے اور بدھ کو رہائی ملنے کے بعد جمعرات کو اسلام آباد انتظامیہ نے پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے فام ہاؤس کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفیکیشن بھی واپس لے لیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ جس خصوصی نوٹیفیکیشن کے ذریعے چک شہزاد میں پرویز مشرف کے فارم ہاؤس کو سب جیل قرار دیا تھا اور اب اسے واپس لے لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف اب اپنے فام ہاؤس سے باہر جا سکتے ہیں اور ان سے ملنے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔

خیال رہے کہ رہائی کے باوجود پرویز مشرف بیرون ملک نہیں جا سکتے کیونکہ اُن کا نام اب تک ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے۔

اس سے قبل بدھ کی شام سپرنٹنڈنٹ جیل راولپنڈی ملک مشتاق نے نامہ نگار حسن کاظمی کو بتایا تھا کہ تقریباً سات بج کر پندرہ منٹ پر عدالتی احکامات موصول ہونے کے بعد پرویز مشرف کو رہا کر دیا گیا ہے۔

پرویز مشرف کی حفاظت کے بارے میں ملک مشتاق کا کہنا تھا کہ وہ اس کے ذمہ دار نہیں اور یہ اب جیل کے عملے کی نہیں بلکہ رینجرز اور پولیس کی ذمہ داری ہے۔

وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف تین نومبر سنہ 2007 میں ایمرجنسی لگانے پر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا بھی اعلان کیا تھا تاہم اس میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد سابق صدر کی رہائی کے بعد پہلے سے زیادہ متحرک ہوگئے ہیں اور پرویز مشرف پر ممکنہ حملوں کے خطرات اب پہلے سے زیادہ بڑھ جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق پرویز مشرف کی چاروں مقدمات میں ضمانت کے بعد اُن کو دی جانے والی سکیورٹی بھی کم کر دی جائے گی۔

دوسری جانب پرویز مشرف کی سیاسی جماعت کی سیکریٹری اطلاعات آسیہ اسحاق کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے وزارتِ داخلہ کو اپنے وکیل کے توسط سے خط لکھا ہے جس میں پرویزمشرف کی حفاظت کا خصوصی انتظام کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

Image caption پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل رہے گا

آسیہ اسحاق کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کو سابق صدر اور سابق آرمی چیف کی حیثیت سے پروٹوکول تو ملنا ہی ہے مگر حالات کے پیشِ نظر ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں جس کی وجہ سے اضافی سکیورٹی کی درخواست کی گئی ہے۔

آسیہ اسحاق کا مزید کہنا تھا کہ جب تک سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمات ختم نہیں ہو جاتے وہ پاکستان سے کہیں نہیں جائیں گے اور حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اراکین سے مشورے کے بعد پرویز مشرف جمعرات یا جمعے کے روز پریس کانفرنس کریں گے جس میں وہ میڈیا کے تمام سوالات کا خود جواب دیں گے۔

اسی بارے میں