شہادت کا سرٹیفیکیٹ

Image caption امریکہ جس کو قتل کرے گا اگر وہ کتا بھی ہوگا تو میں اسے شہید کہوں گا: فضل الرحمان

گیارہ مئی کی رات جب عام انتخابات کے نتائج آنا شروع ہوئے تو لاہور ایک اور ہی رنگ میں رنگ گیا۔ مال روڈ پر ہونے والے بھنگڑے، آتش بازی اور موج مستی پاکستان کا ایک اور ہی چہرہ دکھا رہی تھی۔

یہیں ایک برطانوی صحافی سے ملاقات ہوئی جو بہت حیرت زدہ تھا۔ تھوڑی گپ شپ ہوئی تو اس نے بتایا کہ وہ کئی بار پاکستان کا دورہ کرچکا ہے لیکن اسے سمجھ نہیں پایا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگ اسے ہر لمحہ حیران کرتے ہیں۔

ہاں حیران تو کرتے ہیں۔ اب کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی موت کے بعد انھیں ’شہید’ کا درجہ دینے والے جماعت اسلامی کے امیر منور حسن کے بیان کو ہی لیجیے۔

اس بیان سے سب سے زیادہ حیرت تو یقیناً ان لوگوں کے خاندانوں کو ہوئی ہوگی جو ان دھماکوں میں ہلاک ہوئے جن کی ذمےداری تحریک طالبان قبول کر چکی ہے۔ لیکن کچھ حیرت ان ’دجالی‘ قوتوں کو بھی ہوئی جو عموعاً جماعت اسلامی سے اسی طرح کی سوچ کی توقع رکھتے ہیں۔

تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں: ’ہماری کئی مذہبی اور سیاسی جماعتیں کئی بار اس بات کا اظہار کرچکی ہیں کہ وہ طالبان کے نظریے سے متفق ہیں۔ انھیں اختلاف ہے تو ان کے طریقۂ کار سے لہٰذا ان جماعتوں کی جانب سے ایسے بیانات کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔‘

لاہور میں جامعہ نعیمیہ کے منتظم راغب نعیمی کہتے ہیں: ’ہمیشہ ہی کسی ایک گروہ یا جماعت کا ہیرو کسی دوسری جماعت کے لیے ولن ہوتا ہے۔ تو ہر کسی نے اپنے ہیرو کو شہید کہنا ہے۔ اگر کوئی کسی کو شہید کہتا ہے تو وہ اس کی اپنی صوابدید ہے قطع نظر اس کے کہ اسلام کیا کہتا ہے۔‘

قوم ابھی امیر جماعت اسلامی منور حسن کے بیان پر حیرت اور بحث وتکرار میں مصروف تھی کہ مولانا فضل الرحمان نے ایک ایسا بیان داغا کہ بڑے بڑوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔

مولانا نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ ’امریکہ جس کو قتل کرے گا اگر وہ کتا بھی ہوگا تو میں اسے شہید کہوں گا۔‘

واہ! شہید کی اتنی واضح اور دوٹوک تعریف سن کر تو امریکہ سمیت بہت سے لوگوں کے چودہ طبق روشن ہوگئے ہوں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ شہید کی اس نئی تعریف کے مطابق (جو مولانا فضل الرحمان نے بیان کی) تو ’ہیروشیما ناگاساکی میں جو لوگ مارے گئے وہ بھی شہید ہیں، ویتنام کی جنگ کے دوران جو ہزاروں کمیونسٹ مارے گئے وہ بھی شہید ہیں اور دوسری جنگ عظیم میں مارے جانے والے نازی بھی شہید ہیں۔‘

معروف مذہبی رہنما مولانا راغب نعیمی کے مطابق ’شہید تو ایک انتہائی متبرک لفظ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اور اپنے رسول کے لیے استعمال کیا۔ شہید کا لفظ کوئی عامیانہ لفظ نہیں اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔‘

شہید کی اصطلاح ہماری روایت کا حصہ بن چکی ہے اور اس حد تک حصہ بن چکی ہے کہ مذہبی تصور سے قطع نظر اب تو یہ لفظ غیر مسلم بھی استعمال کرنے لگے ہیں۔

بہرحال مولانا فضل الرحمان کی طرف سے بیان کی گئی شہید کی تعریف نے پہلے ہی ہر معاملے پر ابہام کا شکار اس قوم کو مزید الجھا دیا۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ پاکستان میں شہید کون ہے اور کون نہیں یہ طے کرنے کا اختیار چند مذہبی جماعتوں کے پاس ہے۔ جب چاہیں جسے چاہیں شہادت کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیں۔ اور جب چاہیں جسے چاہیں مرتد، اسلام دشمن اور واجب القتل قرار دے ڈالیں۔

قوم کے اسی رویّے پر جالب نے کہا تھا:

چنگیز خان شہید، ہلاکو شہید ہے آیا جو اس زمین پہ ڈاکو، شہید ہے

اسی بارے میں