ابھی بلدیاتی الیکشن نہ کرائیں: عوامی نمائندوں کی متفقہ قرارداد

پاکستان کی قومی اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول پر نظرِ ثانی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

یہ قرارداد جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ایوان میں پیش کی تھی۔

اس متفقہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے لیے بیلٹ پیپرز نجی پرنٹنگ پریس سے چھپوائے جانے کی صورت میں غلطی کا احتمال بہت زیادہ ہے اس لیے ان کی چھپوائی پرنٹنگ کاپوریشن آف پاکستان سے ہی کروائی جائے۔

قومی اسمبلی میں اس متفقہ قرارداد کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی تجاویز لینے کے لیے جمعہ کو اجلاس طلب کیا گیا تھا جو اب منسوخ کر دیا گیا ہے اور دوبارہ اجلاس بلانے سےمتعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

اس قرارداد میں جس پر تمام جماعتوں کے رہنماؤں کے دستخط ہیں، کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں شفاف انتخابات ممکن نہیں ہیں اس لیے ایسا فریم ورک دیا جائے جس میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے اور الیکشن کمیشن اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان نے بلدیاتی الیکشن کے بیلٹ پیپر کی چھپوائی کے لیے چار ماہ کی مہلت مانگی تھی تاہم الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد صوبہ سندھ میں ستائیس نومبر اور پنجاب اور صوبہ بلوچستان میں سات دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کروانے کے شیڈول کا اعلان کیا تھا۔

جمعرات کو ہی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت کے لیے بیس دن میں پانچ کروڑ بیلٹ پیپرز کی چھپوائی ممکن نہیں ہے جبکہ الیکشن کمیشن کا تقاضا ہے کہ چار روز میں بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں۔

یہ بات اُنہوں نے جمعرات کو سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کے ساتھ ملاقات کے بعد کہی۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت پرنٹنگ کی سہولتیں الیکشن کمیشن کو دینے کے لیے تیار ہے لیکن وہ خود بیلٹ پیپرز کی چھپوائی کی نگرانی نہیں کر سکتی کیونکہ اس سے شفافیت متاثر ہوسکتی ہے۔

Image caption مسلم لیگ کی حکومت بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کے حق میں تھی

قانونی امور کے ماہر وکیل علی ظفر کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں بلدیاتی انتخابات کو ری شیڈول کرنے سے متعلق منظور ہونے والی متفقہ قرارداد پر سپریم کورٹ کوئی کارروائی نہیں کر سکتی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر اس سلسلے میں کوئی قانون سازی کی جائے تو سپریم کورٹ اس کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے کر کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ ان انتخابات کے انعقاد کے علاوہ حکومت کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے اور انتخابات نہ کروانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلام آباد اور کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخابات کراونے میں قانون سازی کے نام پر تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں