دوسرا دن: سینٹ کا اجلاس ایوان کے اندر بھی اور باہر بھی

Image caption اجلاس میں ڈرون حملوں کے خلاف، طالبان سے مذاکرات کے حق اور وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کے رویے کے خلاف قرار داد منظور کی گئی

پاکستان کےایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان نے دوسرے روز بھی ایوان میں شدت پسندی اور ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کے ’غلط‘ اعداد و شمار پیش کیے جانے کے خلاف احتجاجاً ایوان کے باہر غیر رسمی احتجاجی اجلاس منعقد کیا۔

بدھ کی طرح جمعرات کو بھی حزب اختلاف نے احتجاجی اجلاس پارلیمان کے احاطے میں پارلیمان کی عمارت کے بالکل سامنے منعقد کیا۔

ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد پر نیا تنازع

اجلاس میں حزب اختلاف کے 35 ارکان شریک ہوئے تاہم ایم کیو ایم اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بعض سینیٹروں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

اجلاس میں ڈرون حملوں کے خلاف، طالبان سے مذاکرات کے حق اور وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کے رویے کے خلاف قرار داد منظور کی گئی۔

حزب اختلاف کے ارکان کا کہنا ہے کہ وزیرِداخلہ نے صوبہ خیبر پختون خوا میں شدت پسندی کے واقعات میں ہلاکتوں کی غلط تعداد بتائی ہے جبکہ چوہدری نثار نے بدھ کو دوبارہ کہا تھا کہ انھوں نے صوبائی حکومت سے اس تعداد کو دوبارہ چیک کیا اور اس میں ہلاکتوں کی بتائی گئی تعداد درست ہے۔

اس کے علاوہ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ وزارتِ دفاع نے ڈرون حملوں میں شہری ہلاکتوں کی تعداد صحیح نہیں بتائی جبکہ چوہدری نثار کے مطابق وزارت دفاع نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ہلاکتوں سے متعلق ان کی رپورٹ درست نہیں تھی۔

اس سے پہلے حزب اختلاف نے اجلاس پارلیمان کے احاطے سے باہر سڑک پر منعقد کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے باہر جانے سے روک دیا گیا۔

احتجاجی اجلاس کے پہلے دن سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایوان میں ڈرون حملوں کے اعداد و شمار پیش کیے جانے کے فوراً بعد وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ اعداد و شمار غلط ہیں اور اس کے بعد بدھ کو وزارت دفاع نے بھی کہہ دیا ہے کہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار غلط تھے۔

اس سے پہلے گذشتہ جمعے کو سینیٹ میں حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے 24 ارکان نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے خلاف ایوان میں غلط اعداد و شمار پیش کرنے پر سینیٹ سیکریٹریٹ میں تحریک استحقاق جمع کروائی تھی۔

اس تحریک استحقاق میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وزیر داخلہ نے حزب اختلاف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر زاہد خان کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ گُذشتہ پانچ ماہ کے دوران صوبہ خیبر پختون خوا میں شدت پسندی کے 136 واقعات میں 120 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

جمعے کو حزب اختلاف کے بائیکاٹ کی وجہ سے سینیٹ کا اجلاس نہیں ہوا تھا۔

اسی بارے میں