’قیادت افغانستان میں ہو تو مذاکرات کیسے ہوں گے‘

Image caption طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے میں وقت لگے گا: راجہ ظفرالحق

امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت اور پاکستانی طالبان کے نئے سربراہ ملا فضل اللہ کے حکومت سے مذاکرات سے انکار کے بعد ملک کی سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق نظر آتی ہیں کہ طالبان سے دوبارہ بات چیت شروع کرنا آسان نہیں ہوگا۔

پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنما راجہ ظفرالحق نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل اللہ کی تقرری کے بعد مذاکرات سے انکار کا اعلان متوقع تھا۔

سوات کے ملا ریڈیو سے طالبان کے سربراہ تک

تحریک طالبان پاکستان

انھوں نے کہا کہ ملا فضل اللہ ’پہلے سے سخت گیر موقف رکھنے کے لیے جانے جاتے تھے اور جن حالات میں ان کو مقرر کیا گیا اور پھر آج طالبان کی طرف بیان جاری کیا گیا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو اس کی توقع کی جا رہی تھی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس صورتِ حال میں حکومت کی کیا حکمتِ عملی ہوگی تو راجہ ظفرالحق نے کہا کہ ’جو مینڈیٹ آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت کو دیا گیا تھا اس کے ٹکڑے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی اور پھر ان کے ساتھ صلاح مشورے کے لیے رابطے کرنے پڑیں گے جس کے فوکل پرسن چوہدری نثار علی خان صاحب ہیں۔‘

انھوں نے حالات کی نزاکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے بہت کوشش کی گئی تھی لیکن ڈرون حملے میں ’حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے واقعے کی وجہ سے معاملہ بہت گھمبیر ہو گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے میں وقت لگے گا۔

جب مسلم لیگ کے مرکزی رہنما سے پوچھا گیا کہ مولانا فضل اللہ کا کالعدم تحریکِ طالبان کا امیر مقرر ہونے کے بعد وہ کیا پاکستان میں شدت پسند کارروائیوں میں کمی ہونے کی توقع رکھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ’کمی کی تو بہرحال امید نہیں رکھنی چاہیے لیکن یہ ہے کہ اس سے کیسے نمٹا جائے۔‘

پاکستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حامی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی اب طالبان کے ساتھ مذاکرات کو مشکل عمل کے طور پر دیکھتی ہے۔

Image caption حکیم اللہ محسود گذشتہ ہفتے امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے

جے یو آئی(ف) کے مرکزی ترجمان جان اچکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈرون حملے میں حکیم اللہ کی ہلاکت کے بعد سے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میرے خیال میں مشکل یہ ہے کہ اگر طالبان کی قیادت افغانستان میں ہے تو مذاکرات پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ کس طرح مذاکرات آگے بڑھیں گے۔‘ خیال رہے کہ ملا فضل اللہ افغانستان میں قیام پذیر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ڈرون حملے میں حکیم اللہ کی ہلاکت کے بعد مذاکرات کے لیے ماحول بہت خراب ہو گیا ہے اور طرفین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی سابق حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی بھی موجودہ حالات میں طالبان سے مذاکرات کے لیے پر امید نظر نہیں آتی۔

ماضی میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور سوات میں طالبان کے درمیان مذاکرات میں براہ راست شامل رہنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔

’جو زمینی حقائق ہیں اس میں مجھے مذاکرات ہوتے نظر نہیں آتے اور اگر حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کر سکتے ہیں تو کر لیں لیکن مجھے اس میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔‘

زاہد خان حکومت کی طرف سے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے پہلے مذاکرات شروع کرنے کے دعووں کو بھی رد کیا اور کہا کہ نہ تو حکومت کی طرف سے طالبان سے مذاکرات کے لیےکوئی کمیٹی بنائی گئی تھی اور نہ طالبان سے رابطے کیے گئے تھے۔

مولانا فضل اللہ کا طالبان کا نیا امیر مقرر ہونے پر سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ ’ان سے کوئی امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہییں۔ طالبان کا اپنا ایک ایجنڈا ہے، کوئی بھی سربراہ بن جائے وہ اپنے ایجنڈے پر چلے گا اور اسے آگے بڑھائے گا چاہے وہ فضل اللہ ہو یا حکیم اللہ تھا۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے حکیم اللہ محسود امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد بدھ کو مولانا فضل اللہ کو کالعدم تحریکِ طالبان کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کے فوراً بعد طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں