نہیں چاہتے کہ بچے ملالہ کی تقلید کریں: سکولز فیڈریشن

Image caption 16 سالہ ملالہ کو گذشتہ برس اکتوبر میں طالبان نے سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں نجی سکولوں کی پندرہ تنظیموں کی نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نامی تنظیم نے’ملک بھر کے‘ پرائیویٹ سکولوں میں ملالہ یوسف زئی کی کتاب آئی ایم ملالہ پر پابندی عائد کر دی ہے۔

تنظیم کی طرف سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’چاہے ملالہ کو دنیا کا بڑے سے بڑا ایوارڈ ہی کیوں نہ ملے اور چاہے اس کے لیے وائٹ ہاوس اور بکنگھم پیلس کے دروازے چوبیس گھنٹے ہی کیوں نہ کھلے رہیں فیڈریشن یہ نہیں چاہتی کہ پاکستانی بچے ملالہ کی تقلید کریں‘۔

’شکر خدا کا، میں زندہ بچ گئی‘

شدت پسند تعلیم کی طاقت سے خوفزدہ ہیں: ملالہ

تنظیم کے چیئرمین مرزا کاشف نے بی بی سی کو ملالہ کی کتاب پر پابندی لگانے کے وجہ کچھ یوں بتائی: ’کتاب کے متن میں ایسی بہت سی باتیں ہیں جو سکول کے بچوں کو ابہام میں مبتلا کر دیں گی۔ جیسے سلمان رشدی نے ایک ایسی کتاب لکھی جو مسلم عقائد اور ان کے جذبات کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ ملالہ نے اپنی کتاب میں ایسی باتیں کی جن کے مطابق یہ (سلمان رشدی کی کتاب) آزادیِ اظہار ہے میرا خیال ہے کہ اس سے سکول جانے والے بچوں پر مثبت اثر نہیں ہوگا۔‘

فیڈریشن کو ملالہ کی جانب سے اپنی کتاب میں پیغمبرِ اسلام کے نام کے ساتھ صلی اللہ ہو علیہ و آلہ وسلم نہ لکھنے پر بھی اعتراض ہے اور کتاب پر سکولوں میں پابندی عائد کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ آئی ایم ملالہ میں خواتین کی آدھی گواہی کے اسلامی تصور کے بارے میں بھی ابہام پیدا کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔

اس ساری بحث میں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ کتاب تو کسی نجی یا سرکاری سکول کے نصاب کا حصہ ہی نہیں تو پھر اس پر پابندی لگانے کی کیا منطق ہے۔

اس پر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے چئیرمین مرزا کاشف کا کہنا تھا کہ ’بہت سی کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو نصاب کا حصہ تو نہیں ہوتیں لیکن انھیں لائبریریوں میں رکھا جاتا ہے۔ اس پر سکولوں میں کوئی مقابلہ یا مباحثہ کرایا جاتا ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہہ رہے کہ یہ نصاب کا حصہ ہے۔ ہم نے تو لائبریریوں اور نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے اس کتاب پر پابندی لگائی ہے۔‘

مرزا کاشف کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کے بورڈ نے ملالہ یوسف زئی کی کتاب کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ بورڈ میں کون لوگ شامل تھے تو انھوں نے سکیورٹی خدشات کا جواز دیتے ہوئے بورڈ میں شامل لوگوں کا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ اور کہا کہ وہ اپنی فیڈریشن کی جانب سے پوری ذمہ داری سے بات کر رہے ہیں تاہم اگرضرورت پڑی تو وہ بورڈ کے ارکان کے نام بھی ظاہر کر دیں گے۔

آل پاکستان پرائیویٹ سکول فیڈریشن کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک بھر میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ نجی سکولوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ تاہم لاہور شہر میں ہی متعدد دوسری تنظیمیں بھی ایسا ہی دعویٰ کرتی ہیں۔

ایک دوسری تنظیم آل پاکستان پرائیویٹ سکولز منیجمنٹ ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ادیب جاودانی کہتے ہیں کہ ملک بھر میں 40 ہزار نجی سکولز ان کی ایسوسی ایشن کے رکن ہیں اور اس پابندی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

Image caption ملالہ کی کتاب’ میں ملالہ ہوں‘ گذشتہ ماہ شائع ہوئی تھی

ادیب جادوانی کا کہنا تھا: ’ہمارا اس پابندی سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ ہماری کتابوں کی سلیکشن تو پنجاب بک بورڈ کرتا ہے۔ ہم اپنی طرف سے تو کوئی کتاب نصاب میں شامل ہی نہیں کر سکتے۔ اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے ملالہ کی کتاب کو نصاب کا حصہ بنانے کے کوئی احکامات دیے ہی نہیں تو اس پر کیا پابندی لگائی گئی ہے۔ ویسے بھی نیا نصاب تو نئے تعلیمی سال کے ساتھ آتا ہے۔ ہمارا پابندی کے بیان سے کوئی تعلق نہیں یہ بیان محض پبلسٹی حاصل کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔‘

پابندی لگانے والی تنظیم نے ملالہ کے لیے دعا بھی کی ہے کہ ’خدا انھیں ایسے لوگوں سے بچائے جو انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔ اور یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ میڈیا اور تعلیمی شعبہ اس بات پر غور و فکر اور بحث مباحثہ کرے کہ ’ملالہ اب قوم کی بیٹی کہلانے کے قابل رہیں بھی ہیں یا نہیں‘۔

ظاہر ہے قوم اور تعلیمی شعبے کے باقی مسائل تو حل ہو چکے ہیں اور اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی بقا کے لیے اب اس بات کا تعین کرنا ہی سب سے اہم ہے کہ ملالہ قوم کی بیٹی یا مسلمان بھی کہلانے کے قابل ہیں بھی یا نہیں‘۔

اسی بارے میں