شدت پسند ہمارے بھائی بچوں کی طرح ہیں: نواز شریف

Image caption بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی اور مکمل بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل سے کام لیا جائے گا، نواز شریف

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ تمام عناصر جو اپنا راستہ بھول چکے ہیں وہ ہمارے بھائی، ساتھی اور بچوں کی طرح ہیں، وہ یہ راستہ چھوڑ دیں کیونکہ اس لڑائی میں کچھ نہیں رکھا۔

انھوں نے شدت پسندوں سے کہا ہے کہ وہ ہتھیار چھوڑ کر ملک کی ترقی کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔

انھوں نے یہ بات زلزلے سے متاثرہ ضلع آواران کے دورے کے موقعے پر وہاں جاری امدادی کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ میں کہی۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، پٹرولیم کے وفاقی وزیر جام کمال، چوہدری نثار علی خان اور قدرتی آفات کے ادارے کے چیئرمین میجر جنرل سعید علیم نے بھی بریفنگ میں شرکت کی۔

نواز شریف نے کہا کہ حکومت کی ان عناصر کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے اور حکومت کا ان سے انتقام لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

نواز شریف نے بلوچ رہنماؤں اور شدت پسندوں سے اپیل کی کہ وہ ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہو کر ملک کی ترقی کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔

نواز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی اور مکمل بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل سے کام لیا جائے گا۔

اس موقعے پر انھوں نے بلوچستان کے زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کے پانچ اور زخمی ہونے والے افراد کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے کی امداد دینے کا بھی اعلان کیا۔

خیال رہے کہ نواز شریف نے جنوبی پنجاب کے علاقے بہاولپور کے قریب فوجی مشقوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شدت پسندوں کو ’معاشرے کےگمراہ اور ذہنی خلفشار کا شکار‘ دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کے خاتمے کے لیےسیاسی جماعتوں، فوج اور سول سوسائٹی کو یکجا ہو کر اس ’آفت‘ سے نمٹنا ہو گا۔

انھوں نے کہا تھا ’سیاسی جماعتوں، مسلح افواج، انتظامیہ، عدلیہ، پارلیمینٹ اور میڈیا سمیت تمام فریقوں کے درمیان اتحاد ان مشکل حالات کا بہت بڑا تقاضہ ہے۔‘

نواز شریف کے مطابق کوئی بھی مزید قتل و غارت گری نہیں چاہتا، ہم پہلے ہی بہت خونریزی دیکھ چکے ہیں اور ہمارے فوجیوں نے اپنی جانیں قربان کر کے اس کی سب سے زیادہ قیمت ادا کی ہے۔

اسی بارے میں