’چاہے دنیا کچھ کہے تحفظ پاکستان آرڈیننس منظور کرائیں گے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے ایک وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی کے پیش نظر متنازع تحفظ پاکستان آرڈیننس 2013 کو ہر صورت قومی اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا چاہے کوئی اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہی کیوں نہ کہے۔

ریاستی اور سرحدی امور کے وفاقی وزیر لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمارے ملک کی اپنی ترجیحات ہیں اس لیے ہم معذرت خواہانہ رویہ نہیں اپنائیں گے، دنیا اگر اعتراض کرتی ہے تو کرتی رہے اگر اس کے ذریعے سے ہم اپنے ملک میں امن لا سکتے ہیں اور بدلے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگتا ہے تو لگتا رہے۔‘

تحفظِ پاکستان آرڈیننس کے خلاف ہڑتال

تحفظ پاکستان آرڈیننس جاری

’اختیارات کا غلط استعمال روکنا مشکل ہو گا‘

تاہم حزب اختلاف اور انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین میں یہ ترمیم نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ متوازی نظام انصاف متعارف کرانے کے مترادف ہے۔

نواز حکومت نے انسداد دہشت گردی سے متعلق قوانین کو سخت کرنے کی کوشش میں قومی اسمبلی میں تین ترمیمی آرڈیننس پیش کیے ہیں جن میں سے ایک تحفظ پاکستان آرڈیننس متنازع بن چکا ہے۔ جہاں انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف وزی کی بنیاد پر اسے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے تو وہاں دوسری جانب حزب اختلاف کے بعض رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے بھی استمعال کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی غیر قانونی گرفتاریوں سے متعلق متعدد مقدمات لڑنے والے لیفٹینٹ کرنل (ر) انعام اللہ رحیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا: ’حکومت یہ آرڈیننس اس لیے لانا چاہتی ہے تاکہ فوج اور دیگر سول اداروں کی جانب سے سرزد ہونے والی غیر قانونی حراستوں کو قانونی آڑ مہیا کی جا سکے۔‘

انھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے سکینہ بی بی کا ذکر کیا جن کے دونوں شادی شدہ بیٹے رشید اور دلبر گذشتہ تین برس سے جیل میں ہیں۔

سکینہ بی بی کا مکان صوبے پنجاب کے شہر قصور میں ہے۔ تین کمروں پر مشتمل چھوٹے سے مکان میں وہ اپنی دو بہوؤں کے ہمراہ رہتی ہیں۔ ان کا ایک بیٹا فوجی تھا جبکہ دوسرا ڈرائیور۔

Image caption سکینہ بی بی کے دونوں شادی شدہ بیٹے رشید اور دلبر گذشتہ تین برس سے جیل میں ہیں

بیوہ سیکنہ بی بی کی کمائی کا ذریعہ یہی بیٹے تھے۔ ان کی غیر قانونی حراست نے گھر کا سارا بوجھ ان پر اور ان کی بہوؤں پر ڈال دیا ہے جو کپڑے سلائی کر کے مشکل سے گزارا کر رہی ہیں۔

سکینہ بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بیٹے رشید اقبال کو سال 2010 میں خفیہ اداروں نے اٹھایا جس کے بعد ان کے حوالدار بھائی دلبر نے ان کی تلاش شروع کر دی ۔اس کے نتیجے میں انہیں بھی غائب کر دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’بیٹوں کی تلاش میں راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے کئی چکر لگائے، آنسو بہائے تب جا کر ڈھائی برس بعد مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے ساہیوال جیل میں ہیں مگر جرم نہیں بتایا گیا۔ ان کے اصرار پر انہوں بتایا گیا کہ انہیں سرحد پار کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔‘ مگر فوج کے پاس اس کے کیا شواہد ہیں، ان کے خلاف عدالتی کارروائی کب اور کہاں کی گئی اور انہیں اپنا وکیل کرنے کا آئینی حق کیوں نہیں دیا گیا، ان سوالوں کے جوابات سکینہ کے وکیل لیفٹینٹ کرنل (ر) انعام اللہ رحیم بھی حاصل کرنے میں تاحال ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے فوج کو بھی خطوط لکھے اور رواں برس جون میں سپریم کورٹ سے بھی رابطہ کیا مگر اب تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

آرڈیننس کی متنازع شقوں میں فوجی اور دیگر سکیورٹی فورسز بشمول پولیس کو یہ اختیارات دیے گے ہیں کہ وہ شک کی بنیاد پر بغیر وارنٹ کے کسی بھی شخص کو گرفتار کر سکتے ہیں۔

شک کی بنیاد پر کسی بھی جگہ چھاپے مارے جا سکتے ہیں۔ کسی بھی شخص کو 90 سے زیادہ دنوں تک عدالت میں پیش کیے بغیر حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

اس آرڈیننس میں اہلکاروں کی جانب سے شک غلط ثابت ہونے پر کسی قسم کی جوابدہی کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

آرڈیننس کے خلاف جہاں سندھ میں ہڑتال کی گئی وہیں حزب اختلاف کی جماعت پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی کو خدشہ ہے کہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے بھی استمعال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ انسداد دہشت گردی سے متعلق سخت قوانین کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا: ’امریکہ اور برطانیہ کی طرح یہاں بھی سخت قوانین ہونے چاہییں، مگر فرق یہ ہے کہ وہاں قانون کی بالادستی ہے اور ایسی کوئی مثال بھی نہیں جہاں قوانین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہو مگر بدقسمتی سے یہاں ایسا نہیں۔‘

Image caption پاکستان میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ متعدد بار اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کر چکے ہیں

تاہم نواز حکومت اس آرڈیننس کو اہم مانتی ہے اور بعض قانونی ماہرین بھی اس کے حق میں ہیں لیکن انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے چیئرپرسن کامران عارف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اس آرڈیننس میں فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کی مشترکہ تحقیقات دراصل نظام انصاف فوج کے حوالے کرنے کے برابر ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اختیارات میں اضافہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘

دہشت گردی کے بڑھتے ہوتے واقعات کے پیش نظر قوانین میں ترمیم پر قانونی ماہرین کی رائے منقسم ہے۔

بعض اسے اہم کہتے ہیں تو ماضی میں ہونے والی غیر قانونی حراستوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے اکثر کو پریشان کر رکھا ہے۔ لیکن اس پر سب متفق ہیں کہ یہ قوانین تب ہی کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں جب متعلقہ اہلکاروں کو اس کے استعمال کے حوالے سے مکمل تربیت دی جائے۔

اسی بارے میں